حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 127
حقائق الفرقان ۱۲۷ سُورَة حم السَّجْدَةِ تو بسبب تجارت پیشہ ہونے کے ان کو علم حساب کی ضرورت رہتی تھی اس واسطے یہ علم ان میں پایا جاتا تھا۔ دوسرا ان کو اپنی زبان کا فخر تھا اور ان میں سے کا ہر ایک شخص اپنی زبان کے کچھ نہ کچھ اشعار یاد رکھتا تھا۔ یہی ان سب کا مایہ فخر اور یہی ان سب کا مایہ علم تھا۔ اس بات پر بہت بحث ہوئی ہے کہ علم حساب سب سے اول کہاں سے نکلا ہے مگر مجھے اس وقت اس بحث میں پڑنے کی کچھ ضرورت نہیں ۔ غرض یہ ہے کہ ہماری کتاب اس خدا کی طرف سے ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور اس کتاب کی تعریف میں فرماتا ہے کہ لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ کوئی نیا علم ، کوئی نئی سائنس، کوئی نئی تحقیقات ایسی نہیں ہو سکتی جو اس کتاب کو باطل کر سکے۔ کوئی مشاہدہ کوئی تجربہ صحیحہ کسی زمانہ کی ترقی علوم ایسی نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے جو اس کتاب کی مبطل ہو سکے ۔ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ نہ اس وقت وَلَا مِنْ خَلْفِہ اور نہ اس زمانہ کے بعد کوئی ایسا امر پیدا ہو سکتا ہے جو اس کو باطل کر سکے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن قیامت تک وسیع ہے۔ یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے کہ قیامت تک کوئی ایسا امر پیدا نہ ہوگا جو کہ اس کتاب کا مبطل ہو سکے ۔ قرآن ہمیشہ سچا پایا تیرہ سو برس کی ترقیات کو میں نے دیکھا اور پڑھا ہے۔ یہ ترقی سائنس میں ہو یا صوفیائے کرام میں ہو ہر ایک کے واسطے مسلمانوں میں بہت سامان موجود ہے۔ کیونکہ یہ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ تمام علوم جدیدہ کا ترجمہ عربی میں ہو جاتا ہے۔ غرض تمام موجودہ علوم کو میں نے دیکھا ہے ان سب کو پڑھ کر میں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کو سچا پایا ہے۔ جو شخص قرآن کو ہاتھ میں رکھے اس کے واسطے کوئی مشکل نہیں ۔ ( بدر جلد نمبر ۳۱ مورخه ۱۳ را گست ۱۹۰۸ ء صفحه ۹) یاد رکھو قرآن مجید کامل کتاب ہے لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ( حم السجدة : ۴۳) اس کی شان ہے باطل اس پر اثر نہیں کر سکتا۔ جو لوگ آجکل کے علوم جدیدہ اور سائنس سے ڈرتے ہیں انہوں نے قرآن مجید کی عظمت اور شوکت کو سمجھا ہی نہیں قرآن مجید پر باطل کا اثر نہیں ہو سکتا۔ وہ تمام صداقتوں کی جامع کتاب ہے اور خاتم الکتب ہے۔ اس کے فہم کے لئے اول وہ کتاب خود ذریعہ ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل درآمد ہے پھر احادیث ہیں پھر لغت