حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 116
حقائق الفرقان ١١۶ سُورَة حم السَّجْدَةِ سوم ۔ اس لئے کہ جس کتاب میں یہ خبر دی گئی اس کا من جانب اللہ ہونا بہت وجوہ سے ثابت کیا گیا۔ چاہو اس کا نام تو ریت لو۔ چاہو قرآن کریم کہو ۔ چہارم ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے اکثر بلکہ تمام کام جن کو ہم دیکھتے ہیں ۔ آہستگی اور تدریج سے ہوا کرتے ہیں۔ بقدر امکان اپنے ارد گرد کا کارخانہ قدرت دیکھ لو۔ پھل دار درخت کتنے دنوں میں پھل دار کہلاتا ہے۔ گھوڑے اور ہاتھی کا آج پیدا ہوا بچہ کتنے دنوں میں اللہ تعالیٰ اس کو ہماری سواری کے قابل بنائے گا۔ آدمی کا وہ بچہ جو آجکل ماں کے رحم میں یا باپ کے جسم میں آرام گزیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو کتنے دنوں میں عالم فاضل اور ریفارمر کرے گا ۔ پس جب ایسے کام جو بتدریج ہور ہے ہیں اسی قادر مطلق ، سرب شکتیمان، کن کے کلمہ کے ساتھ پیدا کر سکنے والے کی پیدائش ہے تو زمین و آسمان اور اس کے درمیانی اشیاء کا چھ روز میں پیدا ہونا کیوں محل انکار ہے؟ پنجم ۔ اس لئے کہ زمین ، آسمان اور ان دونوں کی درمیانی تین چیزیں ہیں اور ان کی بناوٹ دو طرح پر ہے۔ اول ۔ ان اشیاء کی اصل بناوٹ ۔ دوم ۔ ان کی ترتیب ۔ پس یہ چھ چیزیں ہوئیں۔ جو چھ یوم میں پیدا ہوئیں یہاں یہ امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آریہ نے بھی تمام مخلوق کے اصول اشیاء چھ چیزوں کو مانا ہے۔ ارضی اشیاء چہار۔ جن کو اربعہ عناصر یا چارت کہتے ہیں۔ اور سماوی چیزیں دو۔ زمین کی چار چیزیں : ۔ مٹی ، میٹی ، پانی ، آگ، ہوا ۔ سماوی دو چیز یں۔ اکاش جس سماء یا الشماء کہئے ۔ اور دوسری روح جسے جیو کہتے ہیں قرآن کریم میں ایک جگہ کچھ تفصیل کی گئی ہے اسے بھی سنو ۔ قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَلَمِينَ - وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بَرَكَ فِيهَا وَ قَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّابِلِينَ - ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَ هِيَ دُخَانُ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْأَرْضِ انْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَابِعِينَ - فَقَضْهُنَّ سَبْعَ سَمُوتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءِ أَمْرَهَا وَ زَيَّنَا السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ - ( حم السجدة : ١٠ - ١٣) (۱۳-۱۰ لے تو کہہ کہ کیا تم ایسے خدا کا کفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ اور اس کے شریک مقرر کرتے ہو۔