حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 1 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 1

حقائق الفرقان سُوْرَةُ فَاطِرٍ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - سُوْرَةُ فَاطِرٍ ہم سورہ فاطر کو اللہ کے نام سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جو رحمن و رحیم ہے۔ ٢- الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولَى أَجْنِحَةٍ مثْنَى وَثُلثَ وَرُبَعَ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - ترجمہ ۔ سب ہی تعریفیں اللہ ہی کو ہیں وہ اللہ جو آسمان اور زمین کا بنانے والا ہے اور اس نے فرشتوں کو رسول بنایا اور پر دار جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں اور وہ زیادہ کر دیتا ہے پیدائش میں جس کو چاہتا ہے۔ بے شک اللہ ہر ایک چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔ تفسیر اللہ تعالیٰ جو فرماتا جو فرماتا ہے وہ حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ، صفات ، اسماء ، اسماء کی نسبت ہمیں اتنا ہی علم ہو سکتا ہے۔ جتنا وہ خود اپنے انبیاء ، اولیاء کی معرفت بتائے ۔ پس اللہ کی ذات وصفات ، ملائکہ ، قبر ، حشر ، دوزخ ، جنت ، پل صراط کے متعلق ہمارا علم و ہی صحیح ہو سکتا ہے۔ جو خود اس نے فرما دیا اور اسی حد تک ہمیں ان میں گفتگو کرنے کی اجازت ہے۔ أولى اجْنِحَةٍ ۔ یہ اللہ نے فرمایا کہ فرشتوں کے پر ہیں ۔ ان سے کیا مراد ہے۔ یہ اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ پھر وہ جنہوں نے فرشتوں کو بچشم خود دیکھا ۔ جس نے کچھ نہیں دیکھا۔ اس کا اعتراض بیوقوفی ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۸ مورخه ۱۲ اکتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۰۸) أولى أجْنِحَة - صوفیوں نے لکھا ہے۔ میں اسکا ذمہ دار نہیں کہ عروج کے اسباب کا نام اجنحة ہے۔ ( تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۷۶)