حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 91
حقائق الفرقان تفسیر - رَفِيعُ الدَّرَجَتِ ذُو الْعَرْشِ ! ۹۱ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ روح کلام النبی ہی کا نام ہے جس پر عمل کرنے سے موتی اور مردہ بے ایمان زندہ ہوتے ہیں بلکہ قرآن نے انبیاء اور ملائکہ کو بھی روح فرمایا ہے۔ کیونکہ وہ بھی اسی زندگی کے باعث ہیں جسے ایمان کہتے ہیں۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۹۹٬۹۸) يُلْقِي الرُّوحَ - روح سے مراد کلام الہی ہے جان ۔ سول (SOUL) کو عربی بولی میں نفس کہتے ہیں۔ قرآن شریف میں روح کے معنے کلام ہی کے ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ صفحه (۲۱۸) صاحب اونچے درجوں کا مالک تخت کا۔ اتارتا ہے بھید کی بات اپنے حکم سے جس پر چاہے۔ اپنے بندوں میں کہ وہ ڈراوے ملاقات کے دن سے۔ فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۳۹ حاشیه ) ٢٦ - فَلَمَّا جَاءَهُمُ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوا ابْنَاءَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ وَ اسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ وَمَا كَيْدُ الْكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَلٍ - ترجمہ ۔ پھر جب اُن کے پاس ہمارا سچا پیغام لے کر آیا تو لوگوں نے کہا جو لوگ اس کے ساتھ اس کے ساتھ ایمان لائے ان کی اولا دکو قتل کرو اور حیا اڑ ادوان کی عورتوں کی یا زندہ رکھو ان کو اور کافروں کی تدبیر تو گمراہی میں ہی چلتی ہے۔ تفسیر اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ الخ: بولے مارو بیٹے ان کے جو یقین لائے ہیں اُس کے ساتھ اور جیتی رکھو ان کی عورتیں اور جو داؤں ہے منکروں کا سو غلطی میں ۔ ایک عیسائی کے اعتراض وو ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۱۳۳ حاشیہ ) ” فرعون نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو اس لئے مار ڈالا کہ وہ موٹی پر ایمان لائے ، یہ غلط ہے۔ لے بلند درجوں والا صاحب تخت کا اپنے امر سے جس بندے پر چاہتا ہے روح ڈالتا ہے تو کہ وہ ملاقات ( قیامت ) کے دن سے ڈراوے ۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ (۹۸)