حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 57 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 57

حقائق الفرقان ۵۷ سُورَةُ طَهُ حد سے نہ بڑھو نہیں تو تم پر میرا غضب نازل ہوگا ۔ اور جس پر میرا غضب نازل ہوا تو وہ ضرور گر گیا۔ تفسیر۔ لوگ کہتے ہیں۔ فلاں زبان محدود ہے۔ محدود کیا ہوتی ہے۔ عقلاء وفصحاء قوم خود ہی زبان کو وسعت دے لیتے ہیں ۔ طغیان کہتے ہیں مذہبی حد سے باہر نکل جانے کو۔ انبیاء بھی جب آتے ہیں تو حدود اللہ مقرر کرتے ہیں۔ جو قوم ان سے گزرے اسے طاغ بہ عید کہتے ہیں ۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۴ و ۴۵ مورخه ۵ را کتوبر ۱۹۱۱ ء صفحه (۱۲) - وَ إِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى - ترجمہ ۔ اور میں بڑا عیب پوش خطا سے بچانے والا ہوں اُس شخص کو جو تو بہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے پھر ہدایت پر قائم رہے۔ تفسیر۔ چار باتیں ہوں تو اللہ معاف کر دیتا ہے۔ ۔ (۱) آدمی اپنی اصلاح کرلے۔ (۲) ایمان لائے ۔ (۳) عمل صالح کرے۔ (۴) جو بری بات چھوڑ دی ہے اس کے بالمقابل اچھی بات اختیار کرے ۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۴ و ۴۵ مورخه ۷۵ اکتوبر ۱۹۱۱ صفحه ۱۲) وَ إِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدى (طه: ۸۳) جو توبہ کر چکا اور ایمان لایا اور اس کے عمل اچھے ہوئے پھر اس سب کے بعد ہدایت کی راہوں پر ثابت قدم رہا۔ اس کے لئے میں غفار ہوں ۔ مفردات راغب میں لکھا ہے۔ الغفر - الْبَاسُ الشَّيْءِ مَا يَصُونُهُ عَنِ الدَّنَسِ الْمَغْفِرَةُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يَصُونَ الْعَبْدُ مِنْ أَنْ يَمَسَّهُ الْعَذَابُ غفر کے معنے ہیں ایسی شئے کا پہنانا جو میل کچیل سے بچائے۔ خدا کی مغفرت کے یہ معنے ہیں کہ بندہ عذاب کے لگنے سے بچایا جائے ۔ اسی سے مغفر مشتق ہے جو لوہے کی خود کو کہتے ہیں۔ اور غفارہ اس کپڑا کو کہتے ہیں جسے سر پر رکھنے سے کپڑوں کو چکنا تیل نہ لگ سکے ۔ دیکھو مغفرت جس سے غفار کا لفظ نکلا ہے۔ کس طرح تو بہ اور