حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 54 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 54

حقائق الفرقان ولد سُورَةُ طَهُ ہوتے ہیں نہ زندوں میں جیسا کہ ایک شخص جب سخت درد میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ بدحواسی کی زندگی اس کے لئے موت کے برابر ہوتی ہے اور زمین و آسمان اس کی نظر میں تاریک دکھائی دیتے ہیں انہیں کے بارے میں خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ یعنی جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم ہو کر آئے گا۔ اس کیلئے جہنم ہے۔ وہ اس جہنم میں نہ مرے گا۔ اور نہ زندہ رہے گا اور خود انسان جب اپنے نفس میں غور کرے کہ کیونکر اس کی روح پر بیداری اور خواب میں تغیرات آتے رہتے ہیں تو بالضرور اس کو ماننا پڑتا ہے کہ جسم کی طرح روح بھی تغیر پذیر ہے۔ اور موت صرف تغیر اور سلب صفات کا نام ہے۔ ورنہ جسم کے تغیر کے بعد بھی جسم کی مٹی تو بدستور رہتی ہے لیکن اس تغیر کی وجہ سے جسم پر موت کا لفظ اطلاق کیا جاتا ہے۔ ۷۸ - وَ لَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخْفُ دَرَكَا وَ لَا تَخْشُى - تشحید الا ذبان جلدے نمبر ۶ ۔ ماہِ جون ۱۹۱۲ ء صفحہ ۲۷۴ - ۲۷۵) ترجمہ ۔ اور بے شک ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کی طرف کہ راتوں رات نکال لے جا میرے بندوں کو پھر ان کے لئے راستہ تلاش کر خشک دریا میں ۔ نہ تو تجھ کو خطرہ ہوگا پیچھے سے آ کر پکڑنے کا اور نہ ڈوبنے کا ڈر ہوگا ۔ تفسیر یہ کہ رات کو لے چل میرے بندوں کو ۔ پھر چل ان کیلئے ایک خشک راہ جو دریا میں ہے۔ مت ڈریو کسی کے احاطہ سے اور نہ کسی قسم کا خوف کرنا۔ ( نور الدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۰۲) اس رکوع میں قصہ تو موسیٰ کا ہے مگر خدا تعالیٰ نے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اور آپ کے پیچھے آنے والوں کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ اس لئے فرمایا لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةً لِأُولِي الْأَلْبَابِ (يوسف : ۱۱۲) ۔ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی یہ حکم ہونا اے بے شک ان کے حالوں میں عبرت اور تنبیہ ہے عقل والوں کے لئے ۔