حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 454 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 454

حقائق الفرقان لد ولد سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ اپنے ہادی سے دلی محبت سابقہ بت پرستی کی عادت سے مل کر نور ایمان اور عقل صحیح پر غالب آ گئی ۔ اور کوئی ایسی قومی روک ان کے بادیوں نے نہیں رکھی تھی جس کے ذریعے توحید خالص ان کے مشرکانہ طبائع کو فتح کر لیتی۔ میں جب عیسائیوں اور ہندیوں اور سکھوں کے مقدس لوگوں کو شرک کرتے دیکھتا اور ان کی زبان سے سنتا ہوں کہ وہ کہتے ہیں ہمارے ہادی خدائے مجسم اور اوتار تھے تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ بے شک یہ سچا سچے خدا کا کلام ہے۔ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ ۔۔۔۔۔ ( الاحزب : (۴) تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً اور ان کی امت نے حسب تعلیم اپنے ہادی کے اصولاً اقرار توحید کے ساتھ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُۂ کے اقرار کو لازمی کیا ہے۔ اس کلمے کے ایزاد نے جو کچھ اثر دنیا پر دکھلایا۔ وہ بالکل ظاہر ہے اور یہی اس کے منجانب اللہ ہونے کی بڑی زبردست شہادت ہے۔ ہندوستان کے ہادیوں نے ملک سے سکتے کی خطرناک پوجا اور گنگ کی خلاف تہذیب پرستش کو کم نہ کیا۔ اور یہود نے طرا فیم کی پوجا اس وقت تک نہ چھوڑی جب تک أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ ۔ (النساء: ۵۲) کی صدا عرب سے نہ سنی۔ نبی ناصری کی بڑی کوششوں اور محنتوں اور تکالیف بلکہ جانفشانیوں کو میں کس کامیابی کا عنوان بناؤں ۔ جبکہ وہ آپ اور اس کی ماں دونوں معبود قرار دیئے گئے ۔ مسیح تو عموماً تمام عیسائیوں کے معبود ہیں اور ان کی والدہ خصوصا رومن کیتھولک کے یہاں پوجی جاتی ہیں۔ بیشک انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تعلیم اس تکمیل کی محتاج تھی کہ وہ اپنی خالص عبودیت کو دینی تعلیم کا ضروری جز و قرار دیتے ۔ اس ضرورت کو صرف قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تعلیم نے پورا کیا۔ اسی فقرے کے اثر نے عرب جیسے خالص بت پرست ملک سے بت پرستی کا استیصال ہی نہیں اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) باپ نہیں کسی کا مردوں میں لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر ۔ تو نے نہ دیکھے جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب کا مانتے ہیں بتوں اور شیطانوں کو۔