حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 36 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 36

حقائق الفرقان ۳۶ سُورَةُ طُهُ آیات کا منشاء صاف ظاہر ہے۔ اصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مصر جاتے راستہ میں رات کے وقت آگ دکھائی دی اور آگ کے دیکھنے کے بعد ان کو وہ خواہش پیدا ہوئی جو ہمیشہ سمجھدار اور عقل مند مسافروں کو پیدا ہوا کرتی ہے۔ راستہ میں آگ جلانا پہاڑی ملکوں کا عام دستور ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس سفر میں رات کا وقت ، سردی کا موسم پیش آیا۔ اس پر راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ کو دیکھا۔ اسے دیکھ کر ساتھ والوں کو فرمایا۔ تم لوگ ٹھہرو۔ میں تمہارے لئے آگ سلگا لاتا ہوں تا کہ تم اسے سردی میں تاپو۔ اور وہاں جا کر کسی سے راستہ کا پتہ بھی لوں گا۔ قرآن کریم میں صاف لکھا ہے آگ اللہ تعالیٰ کی فرماں بردار اور اس کے حکم کے ماتحت ہے اور یہ بھی قرآن میں لکھا ہے کہ مخلوق کی عبادت جائز نہیں غور کرو۔ قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ - (الانبياء : ٤٠) أَفَرَوَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ ۔ ) الَّتِي تُورُونَ وَأَنْتُمُ انْشَاتُمُ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ - نَحْنُ جَعَلْنَهَا تَذْكِرَةً وَ مَتَاعًا لِلْمُقْوِينَ الواقعه ۷۲ تا ۷۴)۔ اور مخلوق کی نسبت حکم ہے۔ - وَ مِنْ أَيْتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ - ( حم السجدة : ٣٨) ۔۔۔ سورہ قصص کی اس آیت سے جس میں یہ قصہ مندرج ہے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ آواز جس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سنا تھا ۔ آگ سے نہیں آئی۔ بلکہ ایک درخت کی طرف سے وہ آواز سنائی دی۔ چنانچہ اس میں فرمایا ہے۔ لے ہم نے کہا اے آگ ! تو ابراہیم پر سرد اور سلامت ہو جا۔ ہے اس آگ کو جسے جلاتے ہو سمجھتے ہو۔ کیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا یا ہم پیدا کرنے والے ہیں ۔ (آگ کا مدار تو لکڑی پر ہے ) ہم نے اس آگ کو بنا یا یاد دلانے اور جنگل میں رہنے والوں کے نفع کے لئے۔ سے اور اس کے نشانوں سے ہے رات دن سورج اور چاند۔ مت سجدہ کرو سورج اور چاند کو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو۔ جس نے انہیں پیدا کیا اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔