حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 440
حقائق الفرقان ۴۴۰ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ رسول اللہ کی اتباع کا حکم ۔ دوسرے اس سچے اور حقیقی نائب اور خدا کے پاک بندے نے حکم دیا ہے کہ میں تم کو وعظ سناؤں۔ اب بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلعم نے کیا وعظ کیا اور کیا وہ وعظ خود کیا یا خدا کے ارادہ سے کیا اس میں خدا کا ارشاد بھی تھا کہ وعظ سناؤ ۔ اس سے ہم کیا فائدہ اٹھائیں۔ سنیں اور سنائیں اور اس کے اغراض پر غور کر کے عمل کریں۔ آجکل دنیا میں ایک بیماری ہے نہ صرف عورتوں میں بلکہ مردوں میں بھی کہ جب ہم کسی راست باز کے اعمال ۔ احکام اور چال چلن بیان کرتے ہیں۔ تو اس وقت بہت لوگ شیطانی اغوا سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ کام ہم سے نہیں ہو سکتا۔ نہ ہم رسول اور نہ رسول کی بی بی۔ میرے نزدیک یہ کہنا کفر ہے اور خدا پر بھی الزام آتا ہے۔ اس لئے کہ اگر ہم سے ان احکام کا نباہ نہیں ہو سکتا۔ تو کیا خدا نے کوئی لغو حکم دیا ہے۔ پھر جب خدا نے نبی کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ جبکہ ہم وہ کام کر ہی نہیں سکتے ۔ تو ہمیں ان کی اتباع کا حکم کیوں ملا؟ میرا ایمان ہے کہ جن احکام کا متبع خدا نے ہم کو بنایا ہے۔ ہم ضرور کر سکتے ہیں اور جن سے روکا ہے ان سے ہم رک سکتے ہیں۔ پس میں یقین کرتا ہوں کہ خدا نے جو حکم دیتے ہیں ان کو ہم کر سکتے اور اس کے موانعات سے ہم رک سکتے ہیں ۔ رسول صلعم اور آپ کی بیبیاں جب مدینہ میں تشریف لائے تو مدینہ میں کوئی مکان، باغ ، زراعت یا تجارت کا سامان نہ تھا اور سب کو ایک گونہ تکلیف تھی اور وہ اس قسم کی تکلیف نہ تھی جیسے آج کل لوگوں کو لنگر سے کھانا ملتا اور مہمان خانہ میں چار پائی ملتی بلکہ اس وقت ان چیزوں میں سے کچھ بھی نہ ملتا تھا۔ پھر ایک شریر قوم یہود نے آنحضرت سے سخت چھیڑ کی یعنی دس ہزار آدمی کو باہر سے چڑھا کر لائے اور اندر سے خود تباہ کرنا چاہا۔ مگر خدا نے ان باہر والوں کو بھگا دیا۔ اور یہود کو اس پاداش میں ہلاک کیا۔ اور ان کے کل اموال آنحضرت کے سپرد کئے ۔ اس پر کمزور طبائع کی عورتوں کو خیال آیا کہ