حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 438
حقائق الفرقان لدا ٧ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ اور گھروں کے وارث نبی کریم اور صحابہ کرام قرار پائے اور اس قسم کی کئی اور فتوحات ہوئیں۔ ان تمام اموال کے قبضہ میں آنے کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ازواج النبی کے دل میں خیال آ جاوے کہ اب ہماری حیثیت شاہی بیبیوں سی ہونی چاہیے۔ اور اتنی مدت ہم نے فقر وفاقہ سے گزاری ۔ اب تو فراخی ہونی ضروری ہے۔ اس لئے ان کو اس رکوع میں سمجھایا گیا ہے کہ اسی طرح فقر وفاقہ میں گزارہ کرنا ہوگا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۵ مورخہ یکم ستمبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۰۴) أَرْضًا لَّمْ تَطَفُوهَا ۔ جس زمین پر تم نہیں چلے ۔ ارضِ شام ۔ اس میں پیشگوئی ہے کہ شام کا ملک ( بدر جلد ا نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ ستمبر ۱۹۰۵ صفحه (۶) بھی تم فتح کرو گے۔ ٢٩ - يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ امَتِّعُكُنَّ وَ اسَرِ حُكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا - ترجمہ ۔ اے نبی ! تو اپنی بیبیوں سے کہہ دے کہ اگر تم دنیا چاہتی ہو اور اس کی آرائش تو آؤ میں تم کو کچھ فائدہ پہنچاؤں اور رخصت کر دوں تم کو نیک سلوک کر کے ۔ تفسیر يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ - او پر جنگ اور ان میں فتوحات کا ذکر ہے۔ اس کے ساتھ ہی دفعتہ یہ ذکر بھی شروع ہو گیا کہ اے نبی اپنی بیویوں کو کہہ دے کہ اگر تم دنیوی زیب وزینت اور مال اسباب کی خواہشمند ہو تو آؤ۔ میں تمہیں رخصت کر دوں ۔ ان دونوں آیات کا باہم ربط یہ ہے کہ جب فتوحات کے متعلق پیشگوئیوں کی آیات نازل ہوئیں۔ تو طبعاً آنحضرت کے اہلِ بیت کے دل میں یہ خیال آ سکتا تھا کہ جب اس قدر فتوحات ہوں گے اور بے شمار مال غنیمت آئے گا اور قیصر کسری کے خزانے یہاں مدینہ میں آ جاویں گے تو ہم کو بڑا مال و دولت ہاتھ آئے گا اور بڑے عیش و آرام سے زندگی بسر ہوگی۔ برخلاف اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اپنے واسطے کچھ جمع کرنا اور مال و دولت سے دل لگانا گناہ سمجھتے تھے ۔ اس واسطے ازواج کا دل بھی پہلے سے ہی اس قسم کے خیالات سے پاک کر دیا گیا اور صرف اللہ اور اس کے رسول کی خاطر وہاں رہنا انہوں نے منظور کیا۔ ( بدر جلد ا نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ رستمبر ۱۹۰۵ صفحه (۶)