حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 33 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 33

حقائق الفرقان ۳۳ سُورَةُ طُهُ سُوْرَةُ طُهُ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم اس سورۃ کو پڑھنا شروع کرتے ہیں تمام محامدوں سے موصوف اور تمام عیبوں سے پاک ذات اللہ کے نام سے جو بے محنت رحم فرمانے والا اور محنت کا بھی بڑا صلہ دینے والا ہے۔ ۲ - طه - ترجمہ ۔ اے نیکیوں میں حرص کرنے والے مرد۔ تفسیر - طله عربی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں جس کو کسی بات کی دھت لگ رہی ہو ۔۔ عربی لٹریچر محبوبوں کے حسن و جمال، اپنے اظہار کمال، جتھے کی طاقت، دشمن کی ہلاکت کی نسبت بہت کچھ پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اللہ کی عظمت اللہ کی جبروت، اللہ کے عجائبات قدرت کا بیان ہوتا ہے۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۱۱ ء صفحه (۴) مومن کے لئے تسلی کی بڑی ضرورت ہے اور تسلی میں نمونہ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ۔ صحابہ کرام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے۔ اس حالت میں ان کو حضرت موسیٰ کا بیان سنایا جاتا ہے کہ کیونکر وہ دشمنوں سے محفوظ رہے اور آخر کار مظفر و منصور ہوئے ۔ اس رکوع میں واعظ کے سہارے کا ذکر ہے۔ طہ جن کو کسی کام کی دھت لگی ہوئی کہ ضرور ہو جائے اور جس میں وہ کامیاب ہو۔ نا کامیاب ہو تو تہ کہتے ہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۶) اس سورۃ میں قبولیت دعا کی تائید ہے۔ طه - اوبڑے آدمی او حریص ۔ ( تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۶۶ )