حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 406
حقائق الفرقان ۴۰۶ سُورَةُ السَّجْدَةِ ڈراوے ان لوگوں کو جن کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تجھ سے پہلے تا کہ وہ راہِ راست پر آجائیں۔ تفسير مَا أَتَهُم مِّنْ نَذِيرٍ ۔ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا۔ عرب کے لوگ مامور من اللہ اور مکالمہ النبی سے بالکل ناواقف تھے۔ جیسا کہ ہمارے زمانہ کے لوگ ناواقف ہیں جو قوم اس وقت عرب میں موجود تھی ان میں یا ان سے پہلے قریب دنوں میں ان کے درمیان کوئی ایسا نبی نہ گزرا تھا۔ جس سے ان کو معلوم ہوتا کہ نذیر کس طرح ہوا کرتے ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ان کو ایک نذیر نظر آیا۔ ( بدر جلد نمبر ۲۳ مورخہ ۷ استمبر ۱۹۰۵ ء صفحه (۳) بَلْ هُوَ الْحَقُّ - تمام دواوین کتب ادبیه، حدیث فقہاء کے کلام سے قرآن کی شان الگ ہے جس سے ظاہر ہے کہ وہ انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۷۴) ه اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ مَا لَكُم مِّنْ دُونِهِ مِنْ وَلِي وَ لَا شَفِيعٍ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ - ترجمہ ۔ اللہ وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے اندر ہے چھ وقتوں میں پھر وہ حاکم ہوا سب پر ۔ اس کے سوا کوئی ولی وحمایتی اور دلی دوست تمہارا نہیں ۔ تو کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے۔ تفسير في سِتَّةِ أَيَّامٍ - چھ وقتوں میں ہر چیز کا کمال چھ مرتبے طے کر کے ہوتا ہے۔ ایک شخص نے مجھے کہا خدا آنا فانا نہیں بنا سکتا۔ پاس ایک مکی کا کھیت تھا میں نے کہا اس کا ایک بھتہ لاؤ۔ اس نے کہا وہ تو کئی ماہ بعد ہو گا ۔ تب میں نے کہا۔ ایک بھتے کیلئے اتنے مہینے بھی خدا ہی لگاتا ہے۔ ۔ پھر ہم تم کو اور بات سنائیں ۔ تم سے یہی مراد ہے نہ یہ کہ آسمان زمین بنا کے پھر عرش پر جا چڑھا۔ اس کی مثالیں قرآن شریف میں کئی ہیں ۔ چنانچہ الانعام ع ۶ پ ۸ میں ہے کہ -