حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 403
حقائق الفرقان لد له سُورَةُ لُقُمْنَ یوں تو ایک بادشاہ کہہ سکتا ہے۔ میں یہیں مروں گا۔ اور بعض لوگوں نے اپنی قبریں زندگی میں کھدوائیں اور وہیں مرے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۴ مورخه ۲۵ راگست ۱۹۱۰ صفحه ۲۰۲،۲۰۱) إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۔ اس گھڑی کا علم اللہ ہی کو ہے اور وہی بادل اتارتا ہے۔ آجکل کے علم آب و ہوا والے اس کے متعلق تو کچھ نہ کچھ خبریں اڑا ہی لیتے ہیں ( گو وہ بھی اکثر بے اعتبار ثابت ہوتی ہیں ) کہ مینہ کب برسے گا۔ مگر کون دعوی کر سکتا ہے کہ یہ بارش مفید ہو گی یا الٹی ضرر رساں ۔ جیسا کہ آجکل اکثر مقامات پر ہو رہا ہے۔ اور بابرکت ہو گی یا خائب و خاسر کرے گی۔ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۔ وہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی دعوی کرے کہ بعض علامات سے رحم کے اندر لڑکا یا لڑکی کی شناخت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ دعویٰ کون کر سکتا ہے کہ وہ بچہ نیک ہو گا یا بد ہو گا زندہ رہے گا یا مر جائے گا۔ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَا ذَا تَكْسِبُ غَدًا ۔ اور کیا جانتا ہے کوئی شخص کہ کل کیا کمائے گا۔ انسان کے انتا کہ وہ آئندہ دل کی مخفی حالت کو اور اس کے گزشتہ گناہوں یا نیکیوں کی طیاری کو خود انسان بھی نہیں جانتا اس کے واسطے کیا نتائج پیدا کرنے والے ہیں ۔ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِاتِي أَرْضِ تَمُوتُ ۔ اور کیا جانتا ہے کوئی شخص کہ کس زمین میں مرے گا۔ اس میں ایک پیشگوئی ہے کہ عرب کے مسلمان دور دور کے ملکوں کے فاتح ہو کر وہاں حکومت کریں گے اور آخر انہیں ممالک میں فوت ہو کر دفن ہوں گے۔ چنانچہ حضرت عباس کا ایک بیٹا تا تار میں دفن ہوا۔ ایک یورپ میں ۔ ایک افریقہ میں اور ایک عرب میں ۔ ( بدر جلد نمبر ۲۲ مورخه ۳۱ را گست ۱۹۰۵ ء صفحه (۶)