حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 389
حقائق الفرقان ۳۸۹ سُوْرَةُ الْقُمْنَ (۴) ۔ نماز قائم رکھو۔ (۵)۔ بھلی بات کا حکم دو۔ (۶)۔ بری باتوں سے منع کرتے رہو ۔ (۷)۔ لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ (۸) ۔ زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔ (۹)۔ ہر ایک معاملہ میں میانہ روی اختیار کرو۔ (۱۰)۔ اپنی آواز کو دھیما رکھو۔ اس میں دوسرا حکم والدین کے ساتھ سلوک کرنے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت ہی تاکیدی ہے اور شرک سے اجتناب کے بعد سب سے زیادہ ضروری حکم یہی ہے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس وصیت نامہ میں اس حکم کو خاص اپنی طرف منسوب کیا ہے اور اس کے دلائل بیان کئے اور دوسرے احکام کی نسبت اس کی زیادہ تفصیل کی ہے۔ چونکہ یہ وصیت نامه حضرت لقمان کا صرف اپنے بیٹے کیلئے تھا اور بیٹا ہی اس وقت مخاطب تھا اس واسطے ممکن ہے کہ حضرت لقمان نے ان حقوق کا ذکر چھوڑ دیا ہو جو خود انہیں کے متعلق تھے۔ اور پسند نہ کیا ہو کہ اپنے بیٹے کو یہ کہیں کہ تو میری ایسی اطاعت کر اور ایسی خدمت کر لیکن اللہ تعالیٰ نے جب یہ وصیت تمام دنیا کی ہدایت کے واسطے اپنی پاک کتاب میں درج فرمائی تو یہ ضروری حکم بھی اس کے اندر درج فرمایا۔ إِنَّ الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ۔ تحقیق شرک بڑا ظلم ہے کسی ادنی کو اعلیٰ خطاب دینا یا اعلیٰ کو ادنی خطاب دینا۔ پیادے کو بادشاہ کہنا اور بادشاہ کو پیادہ کہنا ایک ظلم ہے باوجود یکہ پیادہ اور بادشاہ ہر دو انسان ہیں اور ایک جیسا جسم رکھتے ہیں اور ممکن ہے کہ کبھی بادشاہ پیادہ بن جائے یا پیادہ بادشاہ بن جائے۔ پھر کس قدر ظلم ہوگا کہ پتھر ، مورت ، عناصر ، اشجار ، حیوان یا انسان کو معبود بنا یا جاوے۔ حالانکہ ان میں اتنا بڑا فرق ہے کہ کوئی مناسبت ان کے درمیان ممکن نہیں ہے۔ ایک ہندو نے ایک دفعہ شرک کی تردید میں ایک حکمت کا کلمہ بولا ۔ اس نے کہا کہ چوہڑا اور میرا باپ دونوں انسان ہیں اور ہر دو یکساں آنکھیں ، ناک ، منہ وغیرہ اعضاء رکھتے ہیں ۔ اور بہت سی باتوں میں ایک دوسرے کی مانند ہیں۔ لیکن پھر بھی اگر کوئی مجھے کہے کہ تیرا باپ چوہڑا ہے تو مجھے اس قدر رنج اور دکھ ہوتا ہے جس کا بیان نہیں ہو سکتا۔ جب ہمارا یہ حال ہے تو کسی پتھر کی مورت یا عاجز