حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 375
حقائق الفرقان ۳۷۵ سُورَةُ الرُّومِ کہ ہمارے ایمان لانے کا نتیجہ کیا ہوا ؟ دولت کو دیکھتے ہیں۔ املاک پر نگاہ کرتے ہیں ۔ اپنے اعوان و انصار کو دیکھتے ہیں ۔ تو ہر بات میں اپنے آپ کو کمال تک پہونچا ہوا دیکھتے ہیں اس لئے خدا کی عظمت و جبروت اور ربوبیت کا ان کو علم نہیں آ سکتا ۔ لیکن جب ان ضعفاء کو جو دنیوی اور مادی اسباب کے لحاظ سے تباہ ہونے کے قابل ہوں ۔ عظیم الشان انسان بنا دے اور ان رؤسا اور اہل دول کو ان کے سامنے تباہ اور ہلاک کر دے تو اس کی عظمت و جلال کی چمکار صاف نظر آتی ہے۔ غرض یہ سر ہوتا ہے کہ اوّل ضعفاء ہی ایمان لاتے ہیں۔ اس دبدھا کے وقت جبکہ ہر طرف سے شور مخالفت بلند ہوتا ہے۔ خصوصا بڑے لوگ سخت مخالفت پر اٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ کچھ آدمی ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے چن لیتا ہے اور وہ اس راستباز کی اطاعت کو نجات کیلئے غنیمت اور مرنے کے بعد قرب الہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اور بہت سے مخالفت کیلئے اٹھتے ہیں جو اپنی مخالفت کو انتہا تک پہونچاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد آ جاتی ہے۔ اور زمین سے آسمان سے دائیں سے بائیں سے غرض ہر طرف سے نصرت آتی ہے اور ایک جماعت طیار ہونے لگتی ہے۔ اس وقت وہ لوگ جو بالکل غفلت میں ہوتے ہیں اور وہ بھی جو پہلے عدم وجود مساوی سمجھتے ہیں آ آ کر شامل ہونے لگتے ہیں ۔ وہ لوگ جو سب سے پہلے ضعف و ناتوانی اور مخالفت شدیدہ کی حالت میں آ کر شریک ہوتے ہیں ان کا نام سابقین اولین ، مہاجرین اور انصار رکھا گیا۔ مگر ایسے فتوحات اور نصرتوں کے وقت جو آ کر شریک ہوئے ان کا نام ناس رکھا ہے۔ یاد رکھو جو پودا اللہ تعالیٰ لگاتا ہے اس کی حفاظت بھی فرماتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ دنیا کو اپنا پھل دینے لگتا ہے لیکن جو پودا احکم الحاکمین کے خلاف اس کے منشاء کے موافق نہ ہو اس کی خواہ کتنی ہی حفاظت کی جاوے وہ آخر خشک ہو کر تباہ ہو جاتا ہے۔ اور ایندھن کی جگہ جلایا جاتا ہے۔ پس وہ لوگ بہت ہی خوش قسمت ہیں جن کو عاقبت اندیشی کا فضل عطا کیا جاتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۲ ء صفحه ۶) قرآن مجید عالم جسمانی سے عالم روحانی کی طرف توجہ دلاتا ہے۔