حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 356
حقائق الفرقان ۳۵۶ سُورَةُ الْعَنْكَبُوتِ تفسیر - انما انا نَذِيرٌ مُبِين - نشان مانگتے ہیں۔ پہلا نشان تو یہی ہے کہ میں نذیر ہوں۔ میرے مخالفوں پر عذاب آنے والا ہے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۸ راگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۷) إنما الأيتُ - قہری نشانات - معجزات قرآنی کے منکر تین گزرے ہیں ۔ سرسید ، لیکھر ام ، حافظ سے ڈرانے والا ہوں ۔ نذیر احمد ۔ حالانکہ ایسی آیتوں میں انکار نہیں ۔ وہ تو فرماتا ہے۔ اللہ کے پاس نشانات ہیں اور میں انہی ( تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۷۳) ۵۲- أَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَ ذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ترجمہ ۔ کیا ان کے لئے یہ (نشان ) کافی نہیں کہ ہم نے نازل فرمائی تجھ پر کتاب جو ان پر پڑھی جاتی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں بڑی رحمت ہے اور نصیحت ہے اور یادگار ہے ایماندار لوگوں کے لئے ۔ تفسیر او لَمْ يكفيهم - یہ رحمت کا نشان فرمایا۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۸ اگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۷) اگر انسان میں ضد نہ ہو اور غور وفکر کرے تو قرآن کافی کتاب ہے۔ قرآن نور ہے ، ہدایت ہے، رحمت ہے، شفا ہے۔ اور ہر ایک قسم کے اختلاف مٹانے کے واسطے آیا ہے۔ أَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَ ذِكْرَى لِقَوْمٍ يؤْمِنُونَ ۔ اور یہی راہ ایمان کی ہے۔۔۔۔ (الحکم جلدے نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ رجولائی ۱۹۰۳ ء صفحه ۴ ) یه کتاب ( قرآن مجید ) ہزار ہا شبہات کے مقابلہ کیلئے کافی ہے۔ کیا ہی پاک روح تھی وہ جس کے منہ سے نکلا حَسْبُنَا كِتَاب اللہ اس فقرے پر ایک قوم رنجیدہ ہے۔ اس کے ایک فرد نے مجھ پر بھی اعتراض کیا۔ تو میں نے اس سے پوچھا آپ حَسْبُنا کے کیا معنے کرتے ہیں اس نے کہا کافیك میں نے کہا یہ تو قرآن مجید ہی کا قول ہے۔ وہ فرماتا ہے أَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَ ذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ کیا ان کے لئے یہ کتاب کافی