حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 25
حقائق الفرقان ۲۵ سُورَةُ مَرْيَمَ اصْطَبِرُ ۔ عبادت پر استقلال کرو۔ سبيا ۔ ہم نام - ولد (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۵) حضرت جبرائیل سے ایک دفعہ حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے پوچھا۔ تم ہر روز کیوں نہیں آتے ۔ تو انہوں نے حسب حال یہ آیت پڑھ دی ۔ مَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ - اب بعض مفسرین نے اس سے یہ سمجھ کر کہ یہ خاص جبرائیل کیلئے ہی ہے۔ مشکلات میں پڑے ہیں ۔ یہ طریق تفسیر ٹھیک نہیں ۔ اس رکوع میں تو جنتیوں کا ذکر ہے۔ وہی کہتے ہیں کہ ہم جنت میں اللہ کے حکم سے ہی پہنچے ہیں ۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۱۱ ء صفحه (۳) ٦٧ - وَيَقُولُ الْإِنْسَانُ وَ إِذَا مَا مِتْ لَسَوْفَ أَخْرَجُ حَيًّا - ترجمہ ۔ اور اور کافر ( منکر قیامت ) آدمی کہتا ہے جب میں مر جاؤں گا تو کیا آگے زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔ تفسیر الانسان ۔ وہ انسان جو قیامت کا منکر ہے ایسا کہتا ہے۔ بعض انسان اپنے افعال - سے ظاہر کرتے ہیں کہ مرکر جی اٹھنے کا خیال ان میں بہت کمزور ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۵) اگر کامل یقین ہو کہ فلاں بات کا یہ نتیجہ ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ انسان فکرمند نہ ہو۔ برسات آنے والی ہو تو سب کولپائیوں کا فکر پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر لوگ بیج بونے کی تیاریاں ( باوجود ان خوفوں کے کہ کھیتی شاید ہو یا نہ ہو یا پھر اس کے بعد اٹھانی یا کھانی نصیب ہو یا نہ ہو) کر لیتے ہیں ۔ امتحان قریب ہو تو لائق سے لائق لڑکا کچھ نہ کچھ تیاری کر لیتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اسے یقین ہوتا ہے۔ کل امتحان ضرور ہوگا ۔ تو پھر اگر قیامت کا یقین پیدا ہو تو انسان کیوں گناہ اور لوگوں کی حق تلفیاں اور اکل مال بالباطل کرے ۔ ایسے ایسے برے کام کر کے وہ زبانِ حال سے جتاتا ہے کہ اسے یوم الحساب کا یقین نہیں۔ اگر یقین ہو تو اس کے متعلق تیاری بھی کرے۔ اس کے بعد ایک دلیل بیان کرتا ہے کہ انسان کچھ نہ تھا۔ ہم نے اسے اپنی صفت ربوبیت کے ماتحت بتدریج اس حالت میں پہونچایا جو پورا ثبوت ہے اس بات کا کہ ہم اسے پھر اٹھائیں گے اور حسب اعمال جنت یا دوزخ میں پہونچائیں