حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 337
حقائق الفرقان ۳۳۷ سُوْرَةُ الْقَصَصِ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ بعض آدمی ذرا تدبیر میں کامیاب ہو جاویں یا ایک دو خواب سچے آ جاویں تو وہ راست بازوں کے مقابلہ پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مگر آخرنا کام مرتے ہیں کیونکہ اللہ اترانے کو نا پسند کرتا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخه ۱۱ اگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۴) مَفَاتِحَة - جمع مفتح خزانے تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۲) ۷۸ - وَابْتَغِ فِيمَا اتْكَ اللهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَ أَحْسِنُ كَمَا اَحْسَنَ اللهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ - - ترجمہ ۔ اور خواہش کر اُس مال سے جو اللہ نے تجھ کو دیا ہے آخرت کے گھر کے سنوار کی اور بھول مت اپنا حصہ دنیا سے اور تو احسان کر کیونکہ اللہ نے تجھ پر احسان کیا ہے اور فساد و شرارت نہ چاہ ملک میں کچھ شک نہیں کہ اللہ پسند نہیں کرتا شر پر مفسدوں کو۔ تفسیر وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا - یعنی دار آخرت کے حصول کے حکم کے یہ معنے نہیں کہ دنیا بالکل چھوڑ دو۔ بلکہ اسلام دین میں ، دنیا میں ایک حد بندی چاہتا ہے۔ چنانچہ بعض اوقات نماز پڑھنا بھی منع ہے۔ اسی واسطے صوم متواتر اور ساری رات جاگنے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا۔ ات كُلَّ ذِي حَق حَقَّهُ كَمَا أَحْسَنَ اللهُ إِلَيْكَ ۔ کیونکہ اللہ نے تم پر احسان کیا۔ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ - سب سے بڑا فساد تو حضرت موسی کا انکار تھا کیونکہ اس سے وحدت میں فرق آتا ہے۔ جو تمام ترقیوں وکامیابیوں کی جڑ ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخه ۱۱ اگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۴) ۸۰- فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا يُلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِي قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ - ترجمہ ۔ تو قارون نے اپنی آرائش میں غلبہ کیا اپنی قوم پر تو طالب دنیا کہنے لگے کہ کیا اچھا ہوتا اے ہر حق والے کو اس کا حق دو۔