حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 325
حقائق الفرقان ۳۲۵ سُوْرَةُ الْقَصَصِ تفسیر القومی ۔ باوجود اجنبی ہونے کے ان چرواہوں کی پروانہ کر کے پانی پلا دیا۔ الأمين - ہم جوان لڑکیاں تھیں ۔ مگر بہت ہی پاک رہا۔ اور پھر کوئی طمع نہیں کیا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخه ۱۱ اگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۳) ۲۸- قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ اُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَى هَتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَنِي حِجَجٍ فَإِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشْقَ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّلِحِينَ - ترجمہ ۔ لڑکی کے باپ نے کہا ( موسیٰ کو ) میں چاہتا ہوں کہ تمہارے نکاح میں اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو اس شرط پر دوں کہ تم آٹھ برس خدمت کرو میری پھر اگر تم پورا کر دو دس برس تو یہ تمہارا احسان ہے اور میں یہ نہیں چاہتا کہ تم پر سخت محنت ڈالوں ۔ قریب مجھ کو تم انشاء اللہ پاؤ گے سنوار کرنے والوں میں ۔ تفسیر - أَنْ تَأْجُرَنِي ثَنِي حِجَجٍ - نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مدینہ سے آٹھ برس بعد وطن میں آئے اور دو برس بعد یعنی دس برس پر فتح کیا ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخه ۱۱ اگست ۱۹۱۰ صفحه ۱۹۳) ہندوستان میں بالخصوص عورتوں کی ایسی بے قدری ہے کہ جسے گالی دینی ہو۔ اسے کہتے ہیں سٹر ایا سالا گویا لڑکی تو در کنار لڑکی کا باپ لڑکی کی ماں ۔ لڑکی کا بھائی بھی مجرم ہیں ۔ اور دنیا میں درکنار کا کا بھی بدترین انسان ہیں ۔ کئی خبیث باطن ہیں۔ جب اپنی بی بی پر ناراض ہوتے ہیں تو اسے کہتے ہیں اپنے باپ کے گھر سے کیا لائی تھی ؟ گویا باپ کا جہاں یہ فرض ہے کہ اپنی لڑکی دے تو ساتھ ہی یہ بھی کہ وہ بہت سا مال و اسباب اپنے داماد کو دے۔ یہ طریق انبیاء کا نہیں ۔ حضرت موسیٰ ایک بزرگ کے ہاں جاتے ہیں جو انہیں ارشاد فرماتے ہیں ۔ اِنِّي أُرِيدُ أَنْ اُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَى تَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمْنِي حِجَجٍ فَإِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ ۔ میں چاہتا ہوں کہ تجھے اپنی ایک لڑکی ان دونوں میں سے نکاح کر دوں ۔ اس شرط پر کہ تو آٹھ سال میری نوکری کرے اور اگر تو دس سال