حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 299
حقائق الفرقان ۲۹۹ سُوْرَةُ النَّمْلِ زمانے نے بہت ترقی کی ہے۔ اور آجکل کی تہذیب کو انسانی ترقیات کا انتہائی زینہ قرار دیا جاتا ہے اور جن باتوں پر ناز ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خطوط میں بے سر و پا طول طویل القاب نہیں ۔ مشکل ترکیبیں نہیں ۔ جن کے مبتدا کی خبر دوسرے چوتھے ورق پر جانکلتی ہو ۔ مگر دیکھو۔ قرآن مجید نے تیرہ سو برس پہلے ایک خط کا نمونہ دیا۔ جو کئی سو برس پہلے کا ہے۔ اور حقیقی مہذب گروہ کے ایک ممبر کا لکھا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَنَ وَ إِنَّهُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَاتُونِي مُسْلِمِينَ ۔ اس سے زیادہ مختصر نویسی پھر جامع مانع کلمات اور عمدہ طرز تحریر کیا ہوسکتی ہے اس نمونہ پر حضرت نبی کریم صلعم کے خطوط ہیں۔ جو معتبر روایات سے ثابت ہیں ۔ بلکہ بعض کے اصل بھی مل گئے ہیں ۔ تشحیذ الاذہان جلد ۶ نمبر ۱۱ ماه نومبر ۱۹۱۱ ء صفحه ۴۳۵) ۳۳ قَالَتْ يَأَيُّهَا الْمَلَوُا افْتُونِي فِي اَمْرِي مَا كُنْتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّى تَشْهَدُون - ترجمہ ۔ بلقیس نے کہا اے دربار والو! مجھے مشورہ دو میرے کام میں ۔ میں کبھی کوئی فیصلہ نہیں کیا کرتی جب تک تم حاضر نہ ہو۔ تفسیر۔ حضرت سلیمان کی نسبت یہ غلط طعنہ ہے کہ آپ ( نعوذ باللہ ) ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر بت پرست بھی ہو گئے ۔ قرآن کریم ایسے تمام مطاعن کی تردید کرتا ہے۔ کیونکہ ایسے بیہودہ و مصر قصص سے تمام راست بازوں کی ذات ستودہ صفات پر حملہ ہوتا ہے۔ اس رکوع میں بتایا گیا ہے کہ وہ عورت خود بھی مشرک نہ تھی چہ جائیکہ حضرت سلیمان ایسے ہوتے۔ افتُونِي فِي امْرِی ۔ یہ ہر ایک سعادت مند دانشور انسان کا قاعدہ ہے کہ اہم امور میں مشورہ کر لیتا ہے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۹ و ۴۰ مورخه ۲۱، ۲۸ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۹ - ۱۹۰ )