حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 296
حقائق الفرقان ۲۹۶ سُوْرَةُ النَّمْلِ کیونکر خیال میں آ سکتا ہے؟ ہم نے تو جانوروں سے بدتر کلام کرنے والے پال کی بات کو سمجھ لیا۔ سلیمان جانوروں کی باتیں کیوں نہ سمجھے ہوں ۔ اور سنو! اگر ہد ہد سے بات نہیں ہو سکتی ۔ تو اگنی سے رگ وید کو تمہارے بڑوں نے کس طرح اور کیونکر سنا ؟ کیا آگے بات کر سکتی ہے کہ وید جیسی بانی تم کو سنا گئی اور آئندہ بھی سنائے گی ؟ سنو اور غور کرو! تمہیں کچھ معلوم ہے کہ انڈیا میں مشہور نیک بخت والدین کے فرماں بردار فرزند راجہ رام چندر جی گزرے ہیں ۔ جب ان کو بن باس کے وقت لنکا کے شہر پر راجہ نے دکھ دیا تو ہنومان جی ان کے بیر اور داس نے ان کی کیسی خدمت کی ۔ ہنومان کو تم خوب جانتے ہو کہ وہ بانر ( بندر ) تھے۔ اور رات دن رامچندر جی سے باتیں کرتے اور رام جی اس بندر سے باتیں کرتے ۔ اسی بندر کی وجہ سے آریہ ورت کے بندر آج تک مکرم و معظم ہیں ۔ اگر یہ سچ ہے کہ ہنومان جی بندر تھے اور رام چندر سے ان کا مکالمہ ہوتا تھا تو ہد ہد اور سلیمان کے مکالمہ پر تمہیں تعجب کیوں ہے؟ سنو ! جو حقیقت ہنومان کے لفظ کے نیچے ہے وہی ہد ہد کے نیچے ہے۔ کاش تم سمجھو۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۰۷،۲۰۶) ۲۳ - فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ اَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَامِ ترجمہ ۔ تھوڑی ہی دیر ٹھہرے تھے (کہ وہ آ موجود ہوا) اور کہنے لگا میں نے ایسی شے معلوم کی ہے جو آپ کو نہیں معلوم اور میں آپ کے پاس سبا سے آیا ہوں ایک عمدہ یقینی خبر لے کر ۔ تفسیر۔ تھوڑی ہی دیر گزری کہ وہ ہد ہد آ گیا۔ اور کہا کہ میں تم کو ایک پختہ خبر ملک سبا کی دیتا ہوں۔ جو پہلے تم کو اس کی پوری خبر نہیں ۔ ( بدر جلد ا نمبر ۲۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ ء صفحه ۶ ) ۲۴ إِنِّي وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَ أُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَ لَهَا عَرْشُ عَظِيمٌ - - ترجمہ ۔ میں نے ایک عورت کو پایا ہے کہ وہ حکومت کرتی ہے وہاں کے لوگوں پر اور اس کو ہر ایک قسم کی نعمت دی گئی ہے اور اس کا ایک بڑا تخت بھی ہے۔