حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 294
حقائق الفرقان سورج کو اکہشا کہا گیا ہے۔ ۲۹۴ سُورَةُ النَّمْلِ اب ہم اصل حقیقت کا اظہار کرتے ہیں۔ قاموس اللغہ میں برقہ لغت کے نیچے لکھا ہے الْبَرْقَةُ مِنْ مَّيَاهِ نَمْلَةٍ یعنی برقه نملہ قوم کے پانیوں ( چشموں ) سے ایک چشمہ ہے۔ طائف عرب کا ایک مشہور شہر ہے اس کے اور یمن کے درمیان یہ وادی نملہ واقع ہے۔ اس وادی میں سے سونا نکلتا ہے۔ سونے کے باریک ذروں کو جو قوم چنتی اور اکٹھا کرتی ہے اس کو نمل کہتے ہیں کیونکہ چھوٹے چھوٹے ذرات کا جمع کرنا کیڑوں کا کام ہے۔ ہمارے ملک میں بھی تھوڑا تھوڑ ا طعام جمع کرنے والوں کو کیرا کہتے ہیں۔ اور ایسی عورتیں اپنے آپ کو اور لوگ ان کو کیری کہتے ہیں ۔ اور کیری کا ٹھیک ترجمہ نملہ ہے۔ گوندل کی بار میں ڈڈ۔ چوہے اور مالیر کوٹلہ میں مور کٹا نے قو میں اب بھی موجود ہیں۔ اکہشا کا ترجمہ بیل کی جگہ سورج بنانے والو! تمہیں سمجھ پیدا ہو۔ بیل کے بدلہ سورج تو بنا لیتے ہو اور دوسری قوموں پر اعتراض کرنے کو تیار ہو جاتے ہو۔ اگر چہ ان کے ہاں قرائن قویہ مرجمہ موجود ہوں ۔ اس بیدادگری اور ناحق کی دل آزاری سے تم کس برومندی اور بہبود کی توقع رکھتے ہو!!! (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۰۶،۲۰۵) ۲۱، ۲۲ - وَ تَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِي لَا أَرَى الْهُدُهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَابِبِينَ - لَا عَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَا اذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِي بِسُلْطَن مُّبِينٍ - ترجمہ۔ اور (ایک وقت ) طیر یعنی سواروں اور چڑی خانہ کا جائزہ لیا تو سلیمان نے کہا یہ کیا بات ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھتا کیا وہ غیر حاضر ہے۔ میں اس کو بہت ہی سخت سزا دوں گا یا میں اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے پاس لاوے علمی دلیل ۔ تفسير - لا أَرَى الْهُدهُد - برآید در جهان کارے زکارے لیے ظیر کا جائزہ لیتے بات میں بات یاد ا ایک کام کرنے سے دوسرا کام بھی انجام پا جاتا ہے۔