حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 292 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 292

حقائق الفرقان ۲۹۲ سُوْرَةُ النَّمْلِ ۱۹۔ حَتَّى إِذَا أَتَوْا عَلَى وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَأَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسْكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَنُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ - ترجمہ ۔ یہاں تک کہ جب پہنچے وادی نمل میں تو ایک نملہ نے اپنی قوم سے یہ بات کہی اے نملو ! تم گھس جاؤ اپنے گھروں میں تم کو کچل نہ ڈالے سلیمان اور اس کا لشکر بے خبری کی حالت میں ۔ تفسیر ۔ وَادِ النَّمل ۔ طائف کے پاس سونے کے ذرات نکلنے کا ایک نالہ ہے۔ ان کو چننے والوں کا نام نملہ ہے۔ ہمارے ملک میں بھی ایسے لوگوں کو کیرے کہتے ہیں۔ اور اس قسم کی کئی قو میں ہیں ۔ مثل مور کٹانے ۔ چو ہے۔ ایک کتاب میں لکھا ہے ہارون الرشید کے آگے ایک عورت نے تھیلی پیش کی اور کہا۔ ہمارے ملک میں ایک دفعہ سلیمان بھی آئے تھے۔ قاموس میں برق کے آگے لکھا ہے۔ کہ الْبَرْقَةُ مِنْ مِيَاهِ نَمْلَةٍ (برق نملہ کے پانیوں میں سے ہے) وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۔ یہاں ایک لطیف نکتہ ہے کہ پہلے لا يَحْطِمَنَّكُمُ کہہ کر صریحاً ایک الزام لگایا۔ مگر ساتھ ہی لا يَشْعُرُونَ سے ازالہ کر دیا۔ شیعہ پر افسوس کہ وہ نملہ جیسا حسن ظن بھی صحابہ نبی پر نہیں رکھتے ۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۹ و ۴۰ مورخه ۲۱، ۲۸ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۹) جب حضرت سلیمان مع لشکر وادی نمل پر پہونچا تو نملہ نے کہا۔اے نملو ۔ اپنے اپنے مکانوں میں چلے جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کا لشکر تم کو کچل ڈالے اور ان کو تمہارے اس کچلنے کی خبر بھی نہ ہو۔ قاموس میں جو لغت کی کتاب ہے۔ لفظ برق کی تفصیل میں لکھا ہے جہاں پانیوں کا ذکر کیا ہے کہ ابرقہ نملہ کے پانیوں میں سے ہے۔ اس وادی میں سونے کے ذرات ریگ میں ہیں۔ وہ لوگ ان باریک ذرات کو چن کر گزارہ کرتے تھے۔ اس لئے ان کا نام نملہ ہوا۔ جیسے اب بھی پنجابی میں کیرا سائل کو کہتے ہیں ۔ جو ایک ایک لقمہ ہر گھر سے لے کر جمع کرتا ہے۔ ضلع شاہ پور میں ڈ ڈو ( مینڈک )۔ چوہا۔ لومڑ ( ثعلب ) وغیرہ اقوام اب بھی موجود ہیں ۔ پنڈ دادنخان میں کیڑیانوالی گلی ( کوچہ ) ہے۔ گلی اس میں قوم کیڑے رہتے ہیں۔ ہارون رشید بھی دورہ کرتے کرتے اس وادی میں گیا تو اتفاقاً اس