حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 284
حقائق الفرقان ۲۸۴ سُورَةُ النَّمْلِ ماتحتوں یا کم درجہ والے لوگوں یا ساتھیوں کو کام کیلئے بھیجتے ہیں ۔ مگر انبیاء خود مفید اور ضروری اور مشکل کام کرتے اور دوسروں کو آرام دیتے ہیں۔ یہ قابلِ غور اور قابلِ تقلید امر ہے۔ اب ہر ایک انسان اپنے اندر غور کرے کیا وہ ایسا کرتا ہے کہ مشکل کام خود کرے اور دوسروں کو آرام دے۔ ایک دفعہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ جنگل میں تھے۔ کھانے پکانے کے وقت تمام صحابہ پر کام تقسیم کر دیا ۔ آخر فر مایا کہ اب سب کام تقسیم ہو گئے تو لکڑیاں میں لاؤں گا۔ وہ حیران ہو گئے۔ مشکل کام اپنے لئے رکھ لیا۔ کیسا پاک نمونہ ہے۔ ( بدر جلد نمبر ۱۶ مورخه ۲۰ جولائی ۱۹۰۵ء صفحه ۲) بدرجلدا - فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَ سُبْحَنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - ترجمہ ۔ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو جناب الہی کی طرف سے آواز دی گئی کہ برکت دیا گیا ہے وہ شخص جو تلاش نار میں ہے اور جو اس کے آس پاس ہے اور اللہ پاک ذات ہے، سب جہانوں کو آہستہ آہستہ کمال کی طرف پہنچانے والا ۔ ☆ تفسیر - ان بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ - برکت دیا گیا ہے وہ شخص جو آگ کی طلب و جستجو میں ہے یہی معنے صحیح ہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۹ و ۴۰ مورخه ۲۸،۲۱ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۹) جب وہاں پہونچے آواز دی گئی کہ جو شخص آگ کی طلب میں آیا ہے۔ اس کو برکت دی گئی جو اس کے ارد گرد موجود ہیں اور پاک ہے اللہ تعالیٰ پالنے والا جہانوں کا یعنی حضرت موسی ظاہری طور پر خیر خواہ بنا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو روحانی طور پر خیر خواہ بنا دیا ۔ وہ تھوڑوں کا بنا۔ ہم نے بہتوں کا بنا دیا۔ وہ ظاہری روشنی کیلئے گیا۔ ہم نے اندر کی روشنی بھی عطا کر دی ۔ ظاہری منزل مقصود کے طلب کیلئے گیا۔ ہم نے باطنی منزلِ مقصود بھی دکھا دیا ۔ سبحان اللہ ۔ یعنی پاک ہے۔ مہندی کو مہمل نہیں دیا۔ اللہ ۔ پاکی چھوڑتا۔ اب ہر بشارتیں دیتا ہے۔ ( بدر جلد ا نمبر ۱۶ مورخه ۲۰ جولائی ۱۹۰۵ صفحه ۶،۲ ) اصل بات یہ ہے کہ یہ موقع حضرت موسی کے لئے تجلی الہی اور نزول وحی رحمانی کا تھا جس کے ساتھ ملائکہ کا بھی نزول تھا اور یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جب کسی رسول اور نبی پر وحی اترتی ہے تو فرشتوں کا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وحی کی حفاظت کیلئے نزول ہوتا ہے تاکہ رحمانی وحی کے ساتھ کسی قسم کا شیطانی دخل نہ ہو