حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 279 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 279

حقائق الفرقان ۲۷۹ سُورَةُ النَّمْلِ سُوْرَةُ النَّمْلِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ نمل کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے۔ طس تِلْكَ ايْتُ الْقُرْآنِ وَ كِتَابٍ مُّبِينٍ - ترجمہ ۔ طور سینا کے متعلق ایک بات بتلا کر ( کہتے ہیں ) یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور حق و ناحق میں فیصلہ کرنے والی کتاب کی۔ تفسیر طس - ط کے معنی صحابہ نے لطیف کئے ہیں۔ اور اس کے معنے سمیع ۔ ابن جریر نے اسے سورہ نمل میں بیان کیا ہے۔ مبین کھول کر سنانے والی ۔ طس - لطيف وسميع (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۹، ۴۰ مورخه ۲۸،۲۱ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۹) تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۷۰) جس قدر دنیا میں مفید اور نفع رساں باتیں ہیں۔ قرآن مجید میں بھی ضرور ان کا شمہ موجود ہوتا ہے۔ منجملہ ان کے حروف مقطعات کے ساتھ اختصار کلام بھی ہے۔ ہر زمانہ میں جب کسی نے کوئی اعتراض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یا قرآن کریم پر کیا ہے۔ وہی بات خود اس کے اندر بھی پائی گئی ہے۔ بلکہ وہ نمونہ اس سے بھی بڑھ کر یا بد تر معترض کے اندر بھی پایا گیا ہے۔ آجکل طس ۔ لیں۔ طه الر وغیرہ ره حروف مقطعات قرآنی پر بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ حروف معمہ کی طرح ہیں مگر یہ اعتراض ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب ساری مہذب دنیا استعمال مفردات میں مجبور کی گئی ہے۔ انگریز تو یہ اعتراض کر ہی نہیں سکتے ۔ ان کے کارخانے، سامان، خطابات، امتحانات، اپنے ناموں وغیرہ میں استعمال حروف مفردات کا بکثرت موجود ہے۔ ایف اے۔ بی اے۔ ایم اے وغیرہ۔