حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 266 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 266

حقائق الفرقان اور ( إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ) ۔ ۲۶۶ سَيَهْدِينِ - میرا رب مجھے کوئی راہ مخلصی کی بنادے گا۔ سُورَةُ الشُّعَرَاء یہاں ایک صوفیانہ نکتہ ہے کہ ابوبکر صدیق نے بھی جب غار میں انا لمدر کون کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اِنَّ اللهَ مَعَنا تو بہ : ۴۰) اور حضرت موسی إِنَّ مَعِيَ رَبِّي کہتے ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخه ۱۴ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۷) ۶۴ - فَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّودِ الْعَظِيمِ - ترجمہ ۔ پھر ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کی طرف کہ تو اپنی اسلامی جماعت کے ساتھ دریا پر چلا جا، پھر دریا ظاہر ہوا پھٹا ہوا ہر ایک حصہ جیسے ایک بڑا ٹیلہ۔ تفسیر - اضْرِبُ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ - ایک مقام پر اضْرِبُ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ (البقرۃ: ۶۱) کی وحی ہوئی ۔اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں ۔ اپنے عصاء کو بحر یا حجر پر مارو۔ اور ایک ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ اپنی جماعت کو سمندر میں سے لے چل ۔ چنانچہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يبسا (طه: ۷۸) ان کے لئے ایک خشک راستہ پڑا ہے۔ وہاں سے نکال لے جاؤ۔ فَانْفَلَقَ ۔ یعنی وہاں دریا پھٹا پڑا ہے۔ خشک ہو چکا تھا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۴ / جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۷) یہ کہ رات کو لے چل ۔ میرے بندوں کو ۔ پھر چل ان کے لئے ایک خشک راہ پر جو دریا میں ہے۔ مت ڈریو کسی کے احاطہ سے اور نہ کسی قسم کا خوف کرنا۔ چل اپنی فرماں بردار جماعت کیساتھ اس بحر میں ۔ پس وہ کھلا تھا اور ہر ایک ٹکڑا تھا۔ جیسے بڑے ریتے کا ٹیلہ۔ اضْرِبُ بعَصَاكَ کے بدلہ سورہ طہ میں اسیرِ بِعِبَادِی اور فَاضْرِبُ لَهُمْ طَرِيقًا پس معنی ہوئے۔ لے جا جماعت فرماں بردار کو یا جا ساتھ جماعت اسلام کے بحر میں جو خشک پڑا ہے۔ پھر بچا یا تم کو اور غرق کر دیا فرعونیوں کو تمہارے دیکھتے ۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۰۲) ا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔