حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 257 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 257

حقائق الفرقان ۲۵۷ سُورَةُ الشُّعَرَاء سُوْرَةُ الشُّعَرَاء مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ شعراء کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو بے محنت بھی دے دیتا ہے اور محنت کو بھی ضائع نہیں کرتا۔ سورة شعراء وغیرہ میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ان قصص کا بیان ہے۔ جن میں انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ان کے دشمنوں کے مقابلوں کا تذکرہ ہوتا ہے اور مخالفوں کی بے وجہ تکذیب کا آخری نتیجہ اور دائمی ثمرہ بتایا جاتا ہے اور پھر آخر میں ہر قصہ کے یوں کہا جاتا ہے۔ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ (الشُّعَرَاء : ۲۸ ) ۔ اسی سورہ میں حضرت نوح علیہ السلام کے اعداء نے جب نوح علیہ السلام کو یہ کہہ کر وعظ سے روکا ۔ لَبِنْ لَّمْ تَنْتَهِ يُنُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ ( الشُّعَرَاء : ۱۷) ۔ اس وقت حضرت علیہ السلام نے یہی فرمایا اور اس طرح دعا کی ۔ رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ - فَافْتَحْ بَيْنِي وَ بَيْنَهُمْ فَتْحًا فَتْحًا وَ نَجْنِي وَمَنْ مَعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ " (الشُّعَرَاء :۱۱۸ ۱۱۹) پھر جو نتیجہ نکلا اس کا بیان ہے۔ لے اس قصہ میں بے ریب ایک نشان معجزہ ہے اور اکثر نہیں مانتے۔ ۲۔ اگر تو اس منادی سے اے نوح نہ رکا تو تجھ پر پتھراؤ کیا جاوے گا۔ سے اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔ تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے اور مجھے اور میرے ساتھ والے ایمان والوں کو بچالے۔