حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 255
حقائق الفرقان ۲۵۵ سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ - قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا - ترجمہ ۔ تو کہہ دے کہ تمہارا پروردگار کیا پر وا کرتا ہے اگر تم اس کو نہ پکارو یا عبادت نہ کرو۔ تم تو جھٹلا چکے ہمارا تمہارا مٹھ بھیڑ ہونے والا ہے۔ تفسیر او مخاطب ! کہہ دے۔ میرے رب کو تمہارے ہلاک و تباہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر تمہاری بت پرستی نہ ہوتی مگر تم تو راستی کو جھٹلا چکے ۔ پس نافرمانی کا لازمی و بال تم پر ضرور آنے والا ہے۔ ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۲۳) اس میں بتایا ہے کہ رحمان کے پیارے۔ رحمان کے پرستار کون ہیں؟ دیکھو۔ اس وقت تم بیٹھے ہو ۔ سب کی آوازوں میں اختلاف، لباسوں میں اختلاف، مکانوں میں اختلاف، صحبتوں میں اختلاف، مذاقوں میں اختلاف ۔ غرض اختلاف ایک فطری امر ہے۔ اب خدا ہی کا فضل ہے کہ تم ایک وحدت کے نیچے آ گئے ہو۔ میں کبھی گھبرایا نہیں کرتا کہ فلاں شخص کو کیوں ہمارا خیال نہیں ۔ کیونکہ میرے مولیٰ کا ارشاد ہے۔ وَلا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ ربك (هود: ۱۱۹- ۱۲۰) پس جس پر فضل ہوا وہ اختلاف سے نکل کر وحدت ارادی کے نیچے آ جائے گا۔ اس رکوع میں اللہ نے ان باتوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن پر چل کر انسان اختلاف سے بچ سکتا ہے۔ گالی کا جواب گالی ۔ یہ جواں مردی کی بات نہیں ۔ جو ایک گالی پر صبر نہیں کرتا۔ اسے پھر سو گالیوں پر صبر کرنا پڑتا ہے۔ اختلاف تو بے شک ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہماری فطرتوں میں اختلاف ہے۔ مگر عباد الرحمان کا طریق یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنی روش سکینت و وقار کی رکھتے ہیں۔ تکبر و تجبر وعصیان سے کام نہیں لیتے ۔ بھاری بھر کم رہتے ہیں ۔ وہ ہر معاملہ میں صبرء عاقبت اندیشی سے کام لیتے ہیں ۔ کیونکہ اختلافوں سے بچنے کی راہ ھون ہے ۔ میرا ایک استاد تھا ۔ اس نے مجھے نصیحت کی کہ دنیا میں سکھی رہنا چاہتے ہو تو اپنے تئیں ایسا نہ بناؤ کہ اپنے خلاف ہونے سے گھبرا جاؤ اور دوسروں سے لڑنے لگو۔