حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 221 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 221

حقائق الفرقان ۲۲۱ سُورَةُ النُّورِ ایک انسان ہی ہوتا ہے اس کو کوئی ناکامی پیش نہیں آتی ۔ وہ جدھر منہ اٹھاتا ہے۔ ادھر ہی اس کے واسطے کامیابی کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ اور وہ فضل، شفاء ، نور اور رحمت دکھلاتا ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخه ۷ ارفروری ۱۹۰۱ء صفحه ۵ ) ہما را انتخاب آخر غلط ہوتا ہے اس کو معزول کرنا پڑتا ہے۔ زندگی اور موت ہی ہمارے اختیار میں نہیں ہے ممکن ہے کہ ایک کو منتخب کریں اور رات کو اس کی جان نکل جاوے۔ میرے استاد کہتے تھے۔ سعادت علی خان نے کئی کروڑ روپیہ ہند کے واسطے انگریزوں کو دیا کہ اسے دیدیں۔ کہتے ہیں جب عمل درآمد کے لئے کاغذ پہونچے تو رات کو جان نکل گئی ۔ یہ مشکلات ہیں جو ہمارے انتخاب درست نہیں ہو سکتے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ الآية ۔ یہ خدا ہی کا کام ہے کہ کسی کو خلیفہ بنا دے۔ پس کسی دلیل کی حاجت نہیں ۔ تم سمجھتے ہو کہ بنی ہاشم نے بڑی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے ۔ خدا نے جس کو بنانا تھا اُس کو بنا دیا۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۱ء صفحه (۸) اسی امت سے خلیفہ ہونا اور خلیفہ کا تقرر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہونا ہی قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر خلیفہ بننا بہت کتابوں کے پڑھ لینے پر ہوتا تو چاہیے تھا کہ میں ہوتا۔ میں نے بہت کتابیں پڑھی ہیں اور کثیر التعدا د میرے کتب خانہ میں ہیں مگر میں تو ایک آدمی پر بھی اپنا اثر نہیں ڈال سکتا ۔ غرض خدا تعالیٰ کا وعدہ آپ ہی منتخب کرنے کا ہے۔ کون منتخب ہوتا ہے۔ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (الانعام: ۱۲۵) جو شخص خلافت کیلئے منتخب ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر دوسرا اس منصب کے سزا وار اس وقت ہر گز نہیں ہوتا ۔ کیسی آسان بات تھی کہ خدا تعالیٰ جس کو چاہے مصلح مقرر کر دے۔ پھر جن لوگوں نے خدا کے ان مامور کردہ منتخب بندوں سے تعلق پیدا کیا انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کی پاک صحبت میں ایک پاک تبدیلی اندر ہی اندر شروع ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی آرزو پیدا ہونے لگتی ہے۔ لے اللہ خوب جانتا ہے کہ کہاں اپنی رسالت رکھنی چاہیے۔