حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 216 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 216

حقائق الفرقان ۲۱۶ سُورَةُ النُّورِ ۵۵- قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِلَ وَ عَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ - ترجمہ ۔ کہہ دو اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی پھر اگر تم منہ موڑو گے تو رسول کے ذمہ تو اتنی ہی بات ہے جو اس پر بوجھ رکھا گیا ( تبلیغ اور عملی نمونہ کا ) اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو تم پر بوجھ رکھا گیا۔ اور اگر تم اس کی اطاعت کرو تو راہ پاؤ اور رسول کے ذمہ تو بس پہنچا ہی دینا ہے کھلا کھلا ۔ تفسیر ۔ اس آیت شریف میں اللہ جل شانہ انسان کو یہ تا ۔ انسان کو یہ تاکید فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور یاد رکھو کہ اگر تم اس کی اطاعت نہ کرو گے تو اس کا ذمہ تو صرف اتنا ہی تھا کہ تبلیغ کر دی اور یہ تمہارا ذمہ تھا کہ تم مان لو۔ کیونکہ یہ اطاعت ہی کامیابی کی راہ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی اور فائز المرام ہونے کے لئے ایک صراط مستقیم بتلائی ہے جو اطاعت اللہ اور اطاعت الرسول سے بنی ہے یہ ہدایت فرماتے وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اطِيعُوا الله یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو ۔ چونکہ اللہ ت اطاعت کرو۔ چونکہ اللہ تعالی تو ایک ایسی فوق الفوق اور وراء الوراء ہستی ہے جس کی شان ہے لا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ (الانعام: ۱۰۴) ۔ پھر اس کی اطاعت کیونکر ہو سکتی ۔اس کی سبیل اور صورت یہ ہے کہ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ - اطاعت الرسول ہی اطاعت اللہ ہوتی ہے کیونکہ رسول اللہ تو گو یا مرضات اللہ کے دیکھنے اور معلوم کرنے کے لئے ایک آئینہ صافی ہوتا ہے اس کی زندگی اس کا چال چلن اس کی نشست برخاست ۔ غرض اس کی ہر بات رضائے الہی اور اطاعت الہی کا نمونہ ہوتی ہے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اطِیعُوا الله کے بعد أَطِيعُوا الرَّسُولَ کہہ کر اس مشکل کو حل کر دیا جو اطاعت اللہ کے سمجھنے اور سوچنے میں پیدا ہو سکتی تھی اور اس کی صراحت اور توضیح اور بھی ہو جاتی ہے جب ہم یہ پڑھتے ہیں فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِلَ اس حصہ آیت میں فَإِنَّمَا عَلَيْهِ میں کی ضمیر جو رسول کی طرف راجع ہے بتلا رہی ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس اطاعت کو جو ابتدائے آیت میں اللہ اور رسول کی اطاعت میں منقسم تھی یہاں صرف رسول ہی کی اطاعت سے مخصوص کر ، اور پھر جب ہم اِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا والے حصہ پر غور کرتے۔ تے ہیں تو یہ راز اور بھی کمال صفائی دیا ہے لے اسے آنکھیں نہیں ادراک کر سکتیں ۔