حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 206
حقائق الفرقان ۲۰۶ سُورَةُ النُّورِ گھر میں بچوں کی طرح ان کی تربیت کرو۔ اگر مسلمان اس کے خلاف کرتے ہیں تو شرع کے خلاف کرتے ہیں حکم تو یہی ہے۔ مَنْ أَدَّبَهَا وَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا ۔ اور عَبِيدُ كُمْ إِخْوَانُكُمْ وغیرہ وغیرہ بلکہ لونڈیوں کے نکاح میں تو ایسی رعائتیں رکھی ہیں ۔ وَ انْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّلِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ إِمَا بِكُم ہاں جس شخص کو لونڈی سے بیاہ کرنا ہو اس کے لئے قرآن مجید نے کچھ شرطیں لگائی ہیں ۔ جیسے وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَتِ الْمُؤْمِنَتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيْتِكُمُ الْمُؤْمِنَتِ ( النساء: ۲۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لونڈیوں کے بیاہ خود کرنا علی العموم شریعت کو پسند نہیں۔ اور تجربہ سے بھی ثابت ہوا کہ شاہانِ اسلام کے گھر میں لونڈیوں کی اولاد سے ہی سلطنت تباہ ہوئی۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۴) بعض عورتیں قسم قسم کے دکھوں میں مبتلا ہو جاتیں اور عورتیں ان کو طعنہ یا ملامت کرتی ہیں ایسی عورتیں بڑی بدطینت ہوتی ہیں ۔ مثلاً اگر بیوہ کو نکاح کرنا موجب ملامت ہے تو جناب خدیجہ کے نبی کریم تیسرے خاوند تھے۔ پس ایسی طاعن کس کو طعنہ دیتی ہے۔ بلکہ نبی کریم کی ساری بیبیوں میں سے صرف حضرت عائشہ صدیقہ کنواری تھیں ۔ الله الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵ و ۲۶ مورخه ۱۳۱ جولائی و ۱۰ / اگست ۱۹۰۴ صفحه ۹) ۳۴ وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ الَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَاتُوهُم مِّنْ مَّالِ اللهِ الَّذِي الكُمْ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيْتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنَا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِهُهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - ترجمہ۔ اور چاہیے کہ وہ لوگ پاک دامن بنے رہیں جن کو نکاح کا مقدور نہیں یہانتک کہ اللہ ان کو غنی ے جس کو تم میں سے مالی طاقت اتنی نہ ہو کہ وہ حفاظت میں رہنے والی عزت دار اور ایمان والی عورتوں سے نکاح کر سکے تو لونڈیوں ہی سے کرلے اپنی ایمان دار چھو کر یوں میں سے ۔