حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 10
حقائق الفرقان ۱۰ سُورَةُ مَرْيَمَ رکوع ۱۲ میں ہے ۔ إِذَا مَا أَتَوكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ۔ اس وقت ۱۴ حضرت عیسی کو نبوت مل چکی تھی ۔ فریا ۔ یہ فقرہ ذم کا بھی ہے اور مدح کا بھی تو گویا لوگوں نے کہا کہ بہت عجیب لڑکا لائی ہو۔ کیوں نہ ہو باپ ماں جو نیک تھے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۷ و ۲۸ مورخه ۳۰ را پریل ، ۵ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۴) فاتت ہے۔ مدت کے بعد مصر سے لیکر آئیں جب عیسی " کو نبوت مل چکی تھی ۔ تشحید الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ صفحه (۴۶۶) ۲۹- يَأخُتَ هُرُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَ مَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا - ترجمہ اے ہارون کی بہن ! نہ تو تیرا باپ ہی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی سرکش تھی ۔ تفسیر - ھرُونَ ۔ قوم کے بزرگ کے نام پر لوگوں کے نام ہوتے ہیں۔ جیسے گیلانی سید ۔ خواہ دس پشتوں سے پنجابی ہوں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۷ و ۲۸ مورخه ۳۰ را پریل، ۵ مئی ۱۹۱۰ء صفحه ۱۶۴) أُخْتَ ھرُونَ ۔ اس لئے فرمایا کہ وہ ہارون کی قوم میں سے تھیں جیسے قریش ، راجپوت ۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۱۱ صفحه (۲) اخت هرُونَ - بارونی قوم کی بہن ۔ ( تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۴۶۶) قرآن نے مریم مسیح علیہ السلام کی ماں کو اخت هارون ۔ ہارون کی بہن کہا۔ یہ بات صحیح نہیں ۔ جواب سنیئے ۔ (۱) ۔ معترض عیسائی لوگو! کوئی الہامی اور روح القدس کی لکھائی ہوئی تاریخ ایسی نہیں جس میں مریم کے خاندان کا مفصل حال مرقوم ہو اور ایسی بھی کوئی کتاب عیسائیوں کے گھر میں نہیں ۔ جس سے مریم کے بھائیوں اور ماں باپ وغیرہ رشتے داروں کے نام کا یقینی پتہ لگے۔ پھر قرآن کے نام کا پتہ کے کلمہ اخت بار اخت ہارون پر آپ کا اعتراض کیا۔ (۲) ۔ پادری لوگو ! تم نسب ناموں اور قصوں پر اعتراض نہ کیا کرو۔ کیونکہ پولوس، طمطاؤس کے پہلے خط میں لکھتا ہے ” کہانیوں اور بے حد نسب ناموں پر لحاظ نہ کریں۔ یہ سب تکرار کا باعث ہوتا ہے نہ تربیت النبی کا جو ایمان سے ہے، طمطاؤس ا باب ۴۔