حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 8
حقائق الفرقان سُورَةُ مَرْيَمَ ۲۳ تا ۲۵ - فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا - فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يُلَيْتَنِي مِنْ قَبْلَ هُذَا وَ كُنْتُ نَسْيًّا مَنْسِيًّا - فَنَادَهَا مِنْ تَحْتِهَا إِلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا - ترجمہ ۔ پس وہ حاملہ ہوئی تو اسے لے کر الگ ہو بیٹھی دور جگہ میں ۔ پھر اس کو دردزہ لے آیا ایک کھجور کے تنہ کی طرف اور وہ بولی کاش اس سے پہلے ( یعنی درد سے ) مجھے غشی آجاتی (یا میں مرگئی ہوتی ) اور میں بھولی بسری ہوگئی ہوتی ۔ پھر اس کو پکار اکسی پکارنے والے نے اس کے نیچے سے کہ غمگین نہ ہو بے شک تیرے رب نے ایک چشمہ بنا دیا ہے تیرے قدم کے پاس۔ تفسیر۔ مَكَانًا قصيا تفسیروں میں لکھا ہے کہ وہ مصر تھا۔ ابن جریر میں بھی اس کا ذکر ہے۔ نَسيَّا مَنْسِيًّا ۔ میں ترک کر دی جاتی ۔ حالت اضطرار میں کلمہ منہ سے نکلا۔ سریا ۔ چشمہ ۔ چھوٹی نہر ۔ میر مٹی سردار کو بھی کہتے ہیں۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۷ و ۲۸ مورخه ۳۰ را پریل ، ۵ رمئی ۱۹۱۰ صفحه ۱۶۳) يلَيْتَنِي مِن قَبْلَ هُذَا - کیا معنی؟ بچہ جننے سے پہلے میری قوت حسیہ نہ رہتی کہ درد تکلیف دہ ہوتا۔ ( نور الدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۱۵) مِن قَبْلَ هذا - موت کی دعا منع ہے اس کے معنی ہیں میں بے ہوش ہو گئی ہوتی ۔ تَحْتَكِ سَرِيًّا ۔ یعنی تیرے نیچے ایک سردار ہے۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۱۱ صفحه (۲) مت غش آجاتا۔ تَحْتَكِ سَرِيًّا - سردار تشحذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه (۴۶۶)