حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 165 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 165

حقائق الفرقان علیہ السلام کی طرح ہلاک ہو جاتا ہے۔ ۱۶۵ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ پھر اس سوء ظن سے تیسرا خیال اور غلط نتیجہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ لَوْ شَاءَ اللهُ لَأَنْزَلَ مَلَيكَةً (المؤمنون: ۲۵) اگر اس کو قرب الہی حاصل تھا اگر یہ واقعی خدا کی طرف سے آیا تھا تو پھر کیوں خدا نے ملائکہ کو نہ بھیج دیا۔ جو مخلوق کے دلوں کو کھینچ کر اس کی طرف متوجہ کر دیتے اور انکو بھی مکالمات الہیہ سے مشرف کر کے یقین دلا دیتے ۔ اس وقت بھی بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں ۔ میں اس نتیجہ پر ان خطوط کر ۔ ۔ کو پڑھ کر پہونچا ہوں جو کثرت سے میرے پاس آتے ہیں ۔ جن میں لکھا ہوا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے۔ ہم نے بہت دعائیں کیں۔ توجہ کی اور کوئی ایسا رویا یا مکالمہ نہیں ہوا۔ پس ہم کیونکر جانیں کہ فلاں شخص اپنے اس دعوی الہام میں سچا ہے؟ یہ ایک خطر ناک غلطی ہے جس میں دنیا کا ایک بڑا حصہ ہمیشہ مبتلا رہا ہے۔ حالانکہ انہوں نے کبھی بھی اپنے اعمال اور افعال پر نگاہ نہیں کی اور کبھی مواز نہ نہیں کیا کہ قرب الہی کے کیا وسائل ہیں اور ان کے اختیار کرنے میں کہاں تک سچی محنت اور کوشش سے کام لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر مشیت حق میں یہ بات ہوتی تو وہ ملائکہ بھیجتا ۔ یہ مثال ان لوگوں کی طرح ہے جیسے کوئی چھوٹا سا زمیندار جس کے پاس دو چار گھماؤں اراضی ہو ۔ اس کو نمبر دار کہے کہ محاصل ادا کرو اور وہ کہہ دے کہ تو میرے جیسا ہی ایک زمیندار ہے ۔ تجھ کو مجھ پر کیا فضیلت ہے ۔ صرف اپنی عظمت اور شیخی جتانے کو محاصل مانگتا ہے ۔ اور ہمارا روپیہ مارنا چاہتا ہے ۔ اگر کوئی بادشاہ ہوتا تو وہ خود آ کر لیتا ۔ وہ آپ کیوں نہیں آیا ۔ مگر لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُنُوا كَبِيرًا (الفرقان: ۲۲) ( حکم جلد ۶ نمبر ۲ مورخه ۷ ارجنوری ۱۹۰۲ صفحه ۸ تا۱۰) کیا بڑا بول بولا ۔ نادان زمیندار بادشاہ کو طلب کرتا ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ بادشاہ تو رہا ایک طرف اگر ایک معمولی سا چپڑاسی بھی آ گیا تو وہ مار مار کر سر گنجا کر دے گا اور محاصل لے لے گا۔ اسی طرح پر ماموروں کے مخالف ایسے ہی اعتراض کیا کرتے ہیں لیکن جب ملائکہ کا نزول ہو جاتا ہے۔ پھر ان لے اور اگر اللہ کو رسول ہی بھیجنا ہوتا تو وہ فرشتوں کو اتارتا ۔ ے یہ لوگ بڑا تکبر رکھتے ہیں اپنے نفس میں اور سر چڑھ گئے ہیں بڑی شرارت میں ۔ ہے۔