حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 162 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 162

حقائق الفرقان ۱۶۲ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ تمام امنگیں اور ارادے ان سات ہی باتوں میں آ جاتی ہیں۔ اور یہ سب متقی کو ملتی ہیں۔ پھر نوٹ ہی کے الفاظ بلکہ خدا تعالیٰ ہی کے ارشاد کے مولا کے موافق میں آج تمہیں یہی کہتا ہوں اَفَلا تَتَّقُونَ تم تم کیوں متقی نہیں بنتے ؟ اور تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ نام ہے اعتقادت صحیحہ، اقوالِ صادقہ، اعمالِ صالحہ، علوم حقه، اخلاق فاضلہ، ہمت بلند، شجاعت استقلال، عفت ، حلم ، قناعت، صبر کا اور یہ شروع ہوتا ہے حُسنِ ظن بالله ، تواضع اور صادقوں کی محبت سے اور ان کے پاس بیٹھنے ، ان کی اطاعت سے۔ جبکہ تقویٰ کی ضرورت ہے اور یہ حاصل ہوتا ہے صادقوں کی صحبت اور محبت سے اور حُسن ظن باللہ سے۔ تو راستبازوں اور ماموروں کا دنیا میں آنا ضرور ہوا۔ اور ان کی تعلیم ناضرور ہوا۔ اور ان کی تعلیم اور بعثت کا منشاء اور مدعا یہی ہوا۔ اور یہی تعلیم لے کر نوح علیہ السلام آئے تھے۔ اور انہوں نے قوم کو یہی فرمایا مگر ناعاقبت اندیش جلد باز ، حیلہ ساز مخالفوں نے اس کے جواب میں کیا کہا ؟ فَقَالَ الْمَلُوا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا هُذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُم - نابکار اعدائے ملت ائمۃ الکفر نے کہا تو یہ کہا ما هذا الا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کہ یہ شخص جو خدا کی طرف سے مامور ہونے کا مدعی ہے جو کہتا ہے کہ تمہیں ظلمت سے نکالنے کے لئے میں بھیجا گیا ہوں ۔ اس میں کوئی انوکھی اور نرالی بات تو ہے نہیں ۔ ہمارے تمہارے جیسا آدمی ہی تو ہے ۔ پس یا درکھو سب سے پہلا اعتراض جو کسی مامور من اللہ، راست باز ، صادق انبیاء ورسل اور ان کے سچے جانشین خلفاء پر کیا جاتا ہے۔ وہ یہی ہوتا ہے کہ اس کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ اور اپنی ہی ذات پر اس کو قیاس کر لیا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ اس کے بلند اور عظیم الشان دعاوی کو سنتے ہیں کہ وہ کہتا ہے میں خدا کی طرف سے آیا ہوں۔ خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے۔ اس کے ملائکہ مجھ پر اترتے ہیں۔ دوسری طرف وہ دیکھتے ہیں کہ وہی ہاتھ، پاؤں، ناک، کان ، آنکھ اعضاء رکھتا ہے۔ بشری حوائج اور ضرورتوں کا اسی طرح محتاج ہے۔ جس طرح ہم ہیں ۔ اسی لئے وہ اپنے ابنائے جنس میں بیٹھ کر یہی کہتے ہیں۔ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَ يَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ (المؤمنون : ۳۴) پر اپنے جیسے ے وہ بھی کھاتا ہے اسی قسم سے جس سے تم کھاتے ہو اور پیتا ہے جس میں سے تم پیتے ہو۔