حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 152
حقائق الفرقان ۱۵۲ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ چٹھی انصار اللہ کے نام شائع کی اور جنہوں نے خلافت کے متعلق مباحثہ کیا ان کا کوئی حق نہ تھا۔ اس کھلی چٹھی نے تو میرے دل کو کھول دیا۔ ایسا ہی ایک شخص نے ایک چھپا ہوا کارڈ میرے پاس بھیجا اور پوچھا کہ اشاعت کی اجازت دیتے ہو۔ میں نے کہا کمبخت تو نے قرآن کے خلاف کیا۔ چھاپ کر بھیجتے ہو اور پھر اشاعت کی اجازت مانگتے ہو۔ اس قسم کے لوگ قرآن کے خلاف کرتے ہیں اور وہ قوم میں جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک ہاتھ پر جمع کیا تھا تفرقہ ڈلوانا چاہتے ہیں ان سے بچو۔ پھر کسی نے کہا گھوڑی سے گرے ہیں ، یہ گھوڑی خلافت کی گھوڑی ہے ۔ استقامت میں فرق آگیا۔ ایسے شریر جھوٹے ہیں خدا نے مجھے اس کا جواب سمجھا دیا ہے وہ لمبا جواب ہے ۔ میں تمہیں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں سے بچتے رہو اور بدظنیاں چھوڑ دو ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو مومن ان صفات کو اختیار کرتے ہیں وہ کامیاب اور بامراد ہو جاویں گے ۔ أُولئِكَ هُمُ الْوَرِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوسَ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ - الحکم جلد ۱۹ نمبر ۶٬۵ مورخہ ۷ ، ۱۴ فروری ۱۹۱۵ ء صفحہ ۷، ۸ ) خَشِعُونَ ۔ ایک مقام پر فرمایا ہے ۔ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةُ (حم السجدہ:۴۰) خاشع کے معنی ہیں ۔ اپنے آپ کو کمال محتاج یقین کرنا اور یہ باور کرنا کہ میرے اپنے پاس کچھ بھی نہیں ۔ اسی لئے صوفیاء نے فرمایا۔ ے ہم دعا از تو اجابت ہم ز تو نماز میں پورا تذلل اختیار کرے اور اس کے ظاہری نشان یہ ہیں کہ ادھر اُدھر نہ دیکھے ۔ لغو حرکات نہ کرے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ے رجولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۷۹) مصلاه خَشِعُونَ - ا - تذلل ٢ - الْقِيَامُ فِي مَا أَمَرَ رَبُّه ٣ لا يُجَاوِزُ بَصَرَهُ عَنْ مُـ ۴۔ ہاتھ پاؤں کو روک رکھنا ۵۔ ادھر ادھر نہ دیکھنا ۔ ( تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۶۸) لے تو دیکھتا ہے زمین کو عاجز مٹی ۔ ۲ (اے خدا) دعا اور اجابت دونوں تجھ ہی سے ہے۔ سے اس جگہ ٹھہرنا جہاں اس کے رب نے حکم دیا ہے۔ ۴۔ اس کی نظر اس کی سجدہ گاہ سے آگے نہیں جاتی ۔