حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 144 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 144

حقائق الفرقان ۱۴۴ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنُونَ اس لئے یا د رکھو کہ جب تک فضل الہی کی بارش نہ ہو یہ حیات بھی حاصل نہیں ہوتی ۔ جب اس کا فضل ہوتا ہے تو سپر مٹوزا پیدا ہوتے اور کام دیتے ہیں ۔ پس اس روحانی پیدائش کے لئے ضروری ہے کہ تمہاری نمازوں میں خشوع ہو۔ جب پانچ دفعہ روزانہ تم خدا کے حضور خشوع کے ساتھ حاضر ہو گے تو ایک نطفہ کی صورت پیدا ہوگی ۔ انسانی نطفہ جو ہوتا ہے اس کو بھی ہزاروں بلائیں جفائیں لگی ہوتی ہیں ۔ اس کے ساتھ منی کا پانی اور لزوجت ہوتی ہے اس کو پھر ایک اور کمال عطا ہوتا ہے ۔ نطفہ صراط مستقیم پر چلنے کا عادی ہوتا ہے اس مضمون کو ڈاکٹر لوگ شاید اچھی طرح سمجھ سکیں اور بیان کرسکیں غرض وہ نطفه صراط مستقیم پر چلنے کا عادی ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ قسم قسم کی بلائیں جفائیں ہوتی ہیں مگر محبل ان قسم قسم کی چیزوں کو پھینک دیتی ہے یہ رحم کے باہر ایک میدان ہوتا ہے اس طرح پر نطفہ صراط مستقیم پر چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ رحم کے اندر کسی مقام پر جا کر عورت کے مادہ سے مل جاتا ہے اور ترقی کرتا ہے اس کے ہر ضلعے پر دائرہ ۲-۴-۱۶-۳۲-۶۴ - ۱۲۸ تک مل جاتے ہیں اور وہ لغو فضلوں کو الگ کر کے اسے جائز اور مناسب نشوونما عطا کرتا ہے یہاں تک کہ پھر ایک ۲۔ ۳ اور ایک کے چار بھی دیکھے ہیں بچوں کی شکل میں پیدا ہوتا ہے ۔ اب غور کرو عناصر کو انسان کی صورت میں ترقی کرنے کے لئے کس قدر منازل سے گزرنا ہوتا ہے اگر ہر منزل اور مرحلہ پر ان لغویات کو جو اس حالت اور حصہ میں ساتھ ہوتی ہیں وہ الگ نہ کریں تو اس قدر ترقی حاصل نہیں ہوتی اسی طرح پر انسان کا روحانی خلق اور نشو و نما ہو نہیں سکتا جب تک وہ لغویات سے نہ بچے ۔ والا وہ نطفہ گر جاتا ہے۔ اس کو اس پیدائش کے لئے رحم سے ایک تعلق رکھنا چاہیے ۔ اس لئے مومنین کو بھی فرمایا کہ رحم سے تعلق ہو اور رحم سے تعلق کی مانع چیزوں کو ہٹا دے اور یہی وجہ ہے کہ روحانی تعلیم کے لئے اس کا نام علق رکھا۔ علق تعلق ہی سے نکلا ہے۔ دوسرا ذریعہ یا اگر اس لئے جیسے نطفہ کواس سے ترقی کیلئے انو یات سے الگ رہنا ضروری ہے اسی طرح ایک مومن روحانی پیدائش اور نشوونما کے لئے خشوع کی حالت سے گزر کر آئندہ لغویات سے پر ہیز کرے چنانچہ فرمایا: وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ