حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 142
حقائق الفرقان ۱۴۲ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ تفسیر - ایمان کامیابی کی کلید ہے ۔ مومن کی فطرت میں ہے کہ وہ کامیاب ہو جاوے۔ کامل مومن کبھی اس کے بغیر رہ نہیں سکتا ۔ پس اگر تم مومن ہو تو تمہاری بھی کچھ خواہشیں ہوں گی اور ان خواہشوں کا خلاصہ ہوگا کہ تم اپنے مقاصد میں مظفر و منصور ہو جاؤ اور فتح مند بن جاؤ ۔ تمام کامیابیوں کا گر یہاں بتایا ہے فتح مند ہونے کی لوگوں نے مختلف تدبیریں سوچی ہیں مگر فتح مندی کا تاج سر پر رکھنے لہ سودے بناتے کے لئے جو اصل قرآن کریم نے بتایا ہے وہ یقینی اور نا قابل خطا ہے ۔ بعض تو اپنی جگہ سود۔ رہتے ہیں اور شیخ چلی کے سے منصوبے سوچتے رہتے ہیں ۔ ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ بازار میں سر اور انگلیوں کو ہلاتا چلا جاتا ہے مجھے پہلے خبر نہ تھی میں نے سمجھا کہ مصیبت میں مبتلا ہے اس سے نکلنا چاہتا ہے مگر معلوم ہوا کہ خیالی پلاؤ پکا رہا ہے۔ ہمارے ملک میں شیخ چلی کی ایک کہانی مشہور ہے کہ وہ کسی شخص کے مزدور ہوئے اور سر پر ایک ٹوکرا اٹھایا ہوا تھا۔ راستہ میں اس مزدوری کے پیسوں پر ایک خیالی سلسلہ جو مشہور ہے اور سب جانتے ہیں اس نے شروع کیا اور ایک موقع پر اسی سلسلہ میں وہ ٹوکرا گر گیا اور مالک کا نقصان ہو گیا ۔ اس نے ڈانٹا تو کہا کہ تم اس اسباب کے نقصان کو روتے ہو میرا سارا کنبہ ہی تباہ ہو گیا ایسے لوگوں کا انجام اسی قسم کا ہوتا ہے۔ یہ خیالی تدبیریں اور منصوبے کامیابی کی منزل پر نہیں پہنچاتے ہیں ۔ کامیابی مومن کا حصہ ہے جو لوگ محض بڑے بڑے خیالات اٹھاتے رہتے ہیں وہ کامیابی کا منہ نہیں دیکھتے۔ پس میرے دوستو ! تم اٹکل بازیوں اور منصوبوں کو چھوڑ دو۔ کامیابی کا گر وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کیونکہ دنیا کے اسباب اور کامیابیوں کا آپ ہی خالق ہے اس لئے اللہ پر بھروسہ کرو۔ جو کامیابی کا پہلا گر قد افتعمیں بتایا کہ کامیابی کی تدبیر بتاتےہیں ایسی تدبیر و قطعی ار یقینی ہے اور وہ یہ ہے الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ پہلی تدبیر یہ ہے کہ نمازوں میں خشوع کرو۔ نمازوں میں خشوع کیا ہوتا ہے؟ یہ ایک حالت ہے جب انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے اس کی مثال اور حقیقت اس طرح پر بیان کی ہے وَ تَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتُ وَ رَبَتْ وَ أَثْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ