حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 126
حقائق الفرقان بیع ۔ یہودیوں کے گرجے ۔ ۱۲۶ صلوت ۔ عیسائیوں کے گرجے یا ہندوؤں کے ٹھا کر دوارے۔ سُوْرَةُ الْحَجِّ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۴ مورخه ۱۶ رجون ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۷۶) حکم ہوا ان کو جن سے لوگ لڑتے ہیں اس واسطے کہ ان پر ظلم ہوا۔ اور اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے وہ جن کو نکالا ان کے گھروں سے اور کچھ دعوی نہیں سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب ۔ حصہ اول صفحہ ۹۷ حاشیہ ) اور اگر نہ ہٹایا کرتا اللہ لوگوں کو ایک کو ایک سے تو ڈھائے جاتے تکیے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجد میں جن میں نام پڑھا جاتا ہے اللہ کا بہت ۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب ۔ حصہ اول صفحہ ۹۹ حاشیہ ) ایک اور احسان اسلام نے کیا جو میرے خیال میں دنیا کے کسی ریفار مراور مصلح کو نہیں سوجھا وہ یہ ہے : وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَ صَلَاتٌ وَ مَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا - ہم بعض اوقات خود حفاظتی کا حکم دیتے ہیں اور اس سے غرض یہ ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو گرجے تباہ ہو جاویں۔ دھرم سالے اور یہودیوں کے معبد تباہ ہو جاویں۔ اور ہم نہیں چاہتے کہ وہ تباہ ہوں۔ کیا یہ سنہری اصل دنیا کی کسی مذہبی کتاب میں پایا جاتا ہے؟ اگر یہ فقرہ انجیل میں ہوتا تو مسیحی لوگوں نے جو سلوک اپنے مخالف لوگوں کے معبدوں سے کیا ہے وہ نہ ہوتا۔ مہتا لوجی کو پڑھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ مسیحی لوگوں سے پہلے کس قدر معبد تھے جن کا آج نام و نشان بھی نہیں ۔ مثلاً پیراموں کا بڑا عظیم الشان مندر تھا۔ جہاں سکندراعظم پیادہ حج کرنے آیا تھا۔ مگر آج کوئی بتا نہیں سکتا کہ وہ مندر کہاں تھا۔ اس قدر تنگ دلی، ضد اور تعصب اور ہٹ اسلام پسند نہیں کرتا کہ معبد گرائے جاویں۔ مسلمانوں نے جہاں آٹھ سو برس، ہزار اور بارہ سو برس بھی راج کیا ہے اس ملک کے معابد اب تک موجود ہیں اور ربارہ ان کو تباہ نہیں کیا مگر بڑی روشنی لہانے والی قوم سے پوچھیں کہ پڑاموں کا مندر کہاں تھا؟ تو نہیں بتا قوم سے پوچھیں کہ پڑا موں کا مندر کہاں سکتے ۔ نشان تک مٹا دیئے بلکہ یروشلم جیسی جگہ جو بائیبل میں بھی مقدس سمجھی گئی تھی ، گئی تھی ، پاش پاش کر دی