حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 113 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 113

حقائق الفرقان ۱۱۳ سُوْرَةُ الْحَجِّ تفسیر یہ سورۃ فتوحات کیلئے بیان فرمائی۔ اس میں فتح مکہ، مدینہ۔ فتح عراق کی طرف اشارہ ہے ۔ عرب ایک خشن پوش قوم تھی، اونٹوں، بکریوں، گوسپندوں کے بالوں کے کپڑے پہنتے ۔ نہ ریشم نہ پشمینہ ۔ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ - اللہ تعالیٰ رسول کے ذریعہ بشارت دیتا ہے کہ تم عراق، عرب ایسے ممالک کے فاتح ہو گے۔ اور بجائے خشن پوشی کے ریشم دیا جاوے گا۔ يحلون - زیور دیئے جائیں گے۔ جنگ میں عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔ یہ سب چیزیں جن کے پہنے کی تھیں۔ انہیں کو پہنائی جاتیں۔ مگر انعام میں اکثر یہ چیزیں اب بھی مردوں کو ملتی ہیں۔ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ مرد پہن لیں۔ سراقہ بن مالک بن جعشم ایک شخص تھا۔ اس کو رسول اکرم نے فرمایا کہ تجھے کسری کے کڑے دیئے جاویں گے۔ اس نے ہاتھ ننگا کر کے کہا کہ ان ہاتھوں میں کڑے؟ فرمایا۔ میں تو دیکھ رہا ہوں چنانچہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں اسے پہنائے گئے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ جون ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۷۴) ۲۵- وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ - ترجمہ ۔ اور ان کو سمجھ دی گئی عمدہ بات کی اور ان کو قابل تعریف ذات کا راستہ دکھلایا گیا۔ تفسیر - إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ ۔ زبان کی شائستگی عرب کو بالخصوص بخشی گئی تھی۔ عرب اپنے مرکز کے لحاظ سے کبھی مفتوح نہیں ہوئے۔ یونانی باؤ بگولہ بھی پنجاب تک پہونچا مگر عرب پر وہ بھی تسلط نہ کر سکا۔ روما کی سلطنت بھی عظیم تھی اور فراعنہ مصر کی بھی۔ لیکن سب کی دست برد سے محفوظ رہے اور خود بھی فاتح نہ ہوئے۔ ا خشن: کھردرا ۔ سخت (مرتب) ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ رجون ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۷۴)