حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 103
حقائق الفرقان ۱۰۳ سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ (اور کہیں گے ) ہائے ہائے ہم تو بے شک اس سے غافل ہی رہے بلکہ ہم بے جا کام کرنے والے مشرک ہی تھے۔ تفسیر۔ گنا ظلمین ۔ ہم بڑے مشرک تھے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ جون ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۷۳) ۱۰۵ - يَوْمَ تَطْوِي السَّمَاءِ كَطَى السِّجِلِ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَانَا أَوَّلَ خَلْقٍ تعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ ۔ - ترجمہ ۔ جس دن ہم لپیٹ لیں گے آسمان کو جیسا مکتوب لپیٹا جاتا ہے۔ جس طرح ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح دہرائیں گے اس کو ۔ پھر وعدہ ہم پر لازم ہے اور ہمیں کرنے والے ہیں۔ تفسیر - كَطَى السجل للكتب ۔ جس طرح مضمون کے اندر اس کی تحریر و مضمون محفوظ ۔ رہتا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ رجون ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۷۳) جس دن لیٹیں گے آسمان کو مانند لپیٹنے کا غذ کتاب کے جیسے ہم نے پہلے پیدائش کو شروع کیا ہم دہراویں گے اُس کو ۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۱۴۰ حاشیه ) تشحید الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۶۸) كطي السجل ۔ جس طرح ایک تحریر اپنی مکتوب چیز و مضمون کو لپیٹ لیتی ہے۔ ١٠٦ - وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّلِحُونَ - ترجمہ ۔ اور بے شک ہم لکھ چکے ہیں زبور میں نصیحت کے بعد کہ ملک کے وارث ہمارے صلاحیت دار بندے ہی ہوں گے۔ تفسير - في الزبور ۔ زبور کے معنے انبیاء کی کتب۔ بَعْدِ الذكر ۔ ذکر سے مراد ۔ اُمّ الکتب، لوح محفوظ ، بعضوں نے کہا۔ ذکر سے مراد قرآن یا تو رات ہے۔