حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 44
حقائق الفرقان ママ سُورَةُ التَّوْبَة کر دیئے۔ اب سوچو۔ مخدوم کا بیمار ہونا۔ اس کو میرا پتہ لگنا اور سو روپیہ مجھے دینا اور اس کے اظہار کا موقع ایسے وقت پر ہونا کہ دشمن خاک میں مل جاوے۔ کیسا تعجب انگیز ہے؟ اور خدا پرست کے لئے کس طرح مقام شکر کا ہے؟ حقیقی فلسفہ اور سائنس دانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اموراتفاقی طور پر نہیں ہوا کرتے۔ اس طرح کے واقعات جن کو میں نے اپنے متعلق بیان کیا ہے۔ ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں خدا پرست ان کے وقوع سے شکر گزار ہوتے اور سجدات شکر کرتے ہیں۔ غافلوں، بدمستوں کے سامنے یونہی گزر جاتے ہیں کہ گویا وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے ۔ حضرت موسی علیہ السلام کا فلق بحر ( دریا کا پھٹ جانا ) انفجار العیون ( بارہ چشموں کا پھوٹنا ) اور ہمارے ہادی کامل رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بلکہ حق کے دشمنوں کا موقع موقع پر کامل شکست و ہزیمت کھانا آپ کا اور آپؐ کے پاک جانشینوں کا بزعم الف اعداء ان پر ہمیشہ کامیاب و مظفر و منصور ہونا اور بت پرستی کا ملک عرب سے استیصال کر دینا ۔ یہ سب آیات بینات اور هیج نیر ہ اور سچے معجزات ہیں ۔ ان کے وقوع سے اللہ اللہ ن تعالیٰ کی ہمہ دانی اور ازل سے علم کامل اور قدرت کاملہ کا پتہ لگتا ہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ۔۔۔۔ اہل اسلام کی خاطر ہمیشہ فرشتے آیا کرتے ہیں اور آیا کریں گے۔ اگر فرشتے اسلام کی خاطر نہ آیا کریں اور نہ آیا کرتے تو جس قدر اسلام کے نابود کرنے کیلئے ہمیشہ دشمنان حق زور لگاتے تھے اور لگاتے ہیں ۔ اب تک اسلام نابود ہو جاتا۔ ہمیشہ اسلام کے مقابلہ میں کافر ذلیل و خوار ہی رہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں تمام عرب و عجم نے کیا کیا زور لگائے ۔ مگر کیا اس ایک انسان کا کام تھا کہ کامیاب ہوتا۔ کیا اس سے صاف ثابت نہیں ہوتا کہ حقیقی دیوتا اور اس کے مظاہر قدرت دیوتے اس کے ساتھ تھے ۔ جب ہی تو دنیا کو حیران کرنے والی فتوحات انہیں نصیب ہوئیں ۔ آج بھی ہمارے زمانہ میں ہم میں ایک حامی اسلام اور سچا مسلمان موجود ہے۔ اس کے استیصال کے لئے بیرونی دنیا میں تمام عیسائیوں تمہارے نئے بھائیوں سکھوں وغیرھم نے اور اندرونی طور پر شیعہ سجادہ نشین مولویوں وغیرھم نے کیسے کیسے زور لگائے ۔ آخر وہ ملائکہ کا ہی لشکر ہے جو سب مخالفوں کے حملوں کا دفاع کرتا اور ان کی آرزوؤں کے خلاف ہزاروں ہزار کو اس کے جھنڈے کے نیچے لا رہا ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحه ۲۴۵ تا ۲۴۸)