حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 496 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 496

حقائق الفرقان ۴۹۶ سُورَةُ الْكَهْفِ انجام کیا ہوتا ہے؟ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ کے رسول ان کی بھی دو حالتیں اور دو جہتیں ہیں ۔ ایک حالت و جہت میں وہ آدمی ہیں بشر ہیں۔ اور دوسری حالت ان کی رسالت و نبوت کی ہے جس کے باعث وہ رسول ہیں نبی ہیں۔ البی احکام کے مظہر اور احکام رساں ہیں۔ جس کے باعث ان کو پیغامبر کہتے ہیں۔ پہلی حالت و جہت سے اگر وہ حکم فرماویں تو اس حکم کا منکر باغی ، منکرِ رسول نہ ہوگا۔ جس کو شرعی اصطلاح میں کافر ، فاسق ، فاجر کہتے ہیں۔ اور دوسری حالت و جہت سے اگر کوئی ان کے حکم کو نہ مانے تو ضرور ان کے نزدیک اس پر بغاوت ، انکار کا جرم قائم ہوگا۔ اور ضرور وہ کافر ، فاسق ، فاجر کہلا وے گا۔ اس جہت سے چونکہ وہ خداوندی احکام کے مظہر ہیں۔ اور جس سے معاہدہ کرتے ہیں۔ اس سے خدا کے حکم سے معاہدہ کرتے ہیں اور معاہدہ کنندہ جو معاہدہ ان سے کرتا ہے وہ اصل میں باری تعالیٰ سے معاہدہ کرتا ہے۔ پس اگر معاہدہ کنندہ معاہدہ کے خلاف کرے تو باغی و منکر بلکہ کافر ہوگا۔ نبی عرب محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت و نبور سالت و نبوت کا دعوی کیا اور اپنے آپ ی کیا اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا رسول بتایا۔ اب ان کو جب لوگوں نے نبی رسول مانا اور ان کے احکام کو الہبی احکام یقین کیا۔ لامحالہ آپؐ سے ان کا معاہدہ حقیقتا اللہ تعالیٰ سے معاہدہ ہوگا ۔ ہاں جو احکام اور مشورے اس عہدہ رسالت کے علاوہ فرماویں۔ ان احکام کی خلاف ورزی میں کفر و فسق نہ ہوگا ۔ صحابہ کرام آپ کے عہد سعادت مہد میں یہ تفرقہ عملاً دکھاتے تھے۔ بریرہ نام ایک غلام عورت تھی جب وہ آزاد ہو گئی ۔ وہ اپنے خاوند سے جو ایک غلام تھا بیزار ہوگئی۔ مگر اس کا شوہر اس پر فدا تھا۔ وہ اس کی علیحدگی کو گوارا نہ کرتا تھا وہ اس پر سخت کبیدہ خاطر ہوا اور آنجناب کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اس امر کی شکایت کی ۔ آپؐ نے بریرہ سے اس کے ساتھ مصالحت کر لینے کو ارشاد فرمایا۔ بریرہ نے جواب دیا۔ آپ یہ وحی سے فرماتے ہیں یا عہدہ نبوت سے علاوہ بطور مشورہ کے فرماتے ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا۔ میں رسالت کے لحاظ سے یہ حکم نہیں دیتا۔ اپنی ذاتی رائے سے تجھے کہتا ہوں اس نے نہ مانا۔ اور کہا مجھے اختیار حاصل ہے۔ اسی طرح انبا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الْهُكُمُ اللَّهُ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةَ أَحَدًا ( الكهف : ااا ) ۔ اس آیت میں شرک سے ممانعت اور اس