حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 484
حقائق الفرقان لد ٧ له سُورَةُ الْكَهْفِ ۹۹۔ قَالَ هُذَا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ ۚ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا - ترجمہ ۔ کہا یہ میرے رب کی مہربانی سے ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آ جائے گا تو اس کو میرا رب گرادے گا اور میرے رب کا وعدہ بالکل سچا ہے۔ تفسیر۔ کہا یہ میرے رب کا احسان ہے۔ پھر جب میرے رب کا وعدہ آیا۔ اسے چور چور کر دے گا۔ اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔ جن حملہ آوروں کیلئے وہ دیوار روک تھی ۔ کچھ اور بلاد میں چلے گئے ۔ اور جگہوں میں ریاستیں اور سلطنتیں قائم کر لیں ۔ آخر عجیب عجیب راستوں سے بعد ہزار سال ہجری وہ قو میں پھر اس ملک پر چڑھنے کے لئے آہستہ آہستہ متوجہ ہوئیں ۔ جس کی طرف ان کے پہلے مورث متوجہ تھے اور اسی طرح کتب مقدسہ کی سچائی ظاہر ہونے لگی ۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۶۱، ۶۲) داء - ریزہ ریزہ ۔ چنانچہ اس زمانہ میں وہ دیواریں کسی کام کی نہ رہیں ۔ جنگی حملوں اور ان سے حفاظت کا طرز و طریق بھی بدل گیا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۷، ۲۸ مورخه ۳۰ را پریل، ۵ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۲) ( ذوالقرنین نے یا جوج ماجوج کو ) آہنی دیوار سے سمندر کے بیچ میں قید کر دیا ۔۔۔۔ یہ ایسا سیاہ جھوٹ ہے۔ جس میں حق و حقیقت اور روحانی تعلیم کا نام و نشان نہیں ۔ ذوالقرنین کی حقیقت تو ہم نے لکھ دی ہے۔ ہاں یا جوج و ماجوج اور دیوار کا تذکرہ ضروری ہے۔ سو سنو ۔ مقدمہ تاریخ ابن خلدون میں جہاں اقلیم چہارم کا حال لکھا ہے ۔ وہاں لکھا ہے کہ اس اقلیم کا دسواں حصہ جبل قو قا یا تک ہے اور اسی پہاڑ کو جبل یا جوج و ماجوج کہتے ہیں ۔ آخر کہا ہے کہ یہ تمام ترکوں کی شاخیں ہیں ۔ صفحہ نمبر ۶۰ ابن خلدون ۔ پھر اقلیم خامس میں لکھا ہے کہ اس کا نواں جزوارض یا جوج و ماجوج ہے اور اسی اقلیم کی