حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 39 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 39

حقائق الفرقان ۳۹ سُورَةُ التَّوْبَة ٢١ - يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ - ترجمہ۔ ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے اپنی خاص مہربانی اور رضامندی کی اور ان باغوں کی جن میں سدا سکھ اور آرام ہیں ۔ تفسیر خدا تعالیٰ نے ہمارے تمام اقوال و افعال بلکہ دنیا کی تمام اشیاء میں مراتب رکھے ہیں۔ مراتب کو نگاہ رکھنا بڑا ضروری ہے۔ دنیا میں نیکیاں ہیں۔ پھر ان سے بڑھ کر اور پھر ان سے بڑھ کر اور مثلاً فرمایا کہ رستے میں کوئی کانٹا یا دکھ دینے والی چیز ہو تو اس کو الگ کر دو۔ یہ ادنی نیکی ہے۔ صوفیوں کے نزدیک اماطة الاذی سے مرادر ذائل ہیں جو خدا تک پہنچنے میں روک ہو جاتے ہیں۔ پھر اس سے بڑھ کر ایمان بالله والرسول ہے مگر میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے لوگ چھوٹی چیز کی طرف توجہ کرتے ہیں اور بڑی کا خیال نہیں رکھتے مثلاً تہجد کے لئے اٹھیں گے۔ خواہ صبح کی نماز قضاء ہی ہو جاوے۔ اس حفظ مراتب نہ کرنے سے نقصان پہنچتا ہے۔ اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو خوب کھولا ہے مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کیا اور ایک یہودی سے کہا کہ دیکھو ہم حجاج کی خدمت کرتے ہیں اور مسجد حرام کی مرمت کرتے رہتے ہیں ۔ کیا ہم محمد یوں سے اچھے نہیں جنہوں نے آ کر پھوٹ ڈال دی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے مقابلہ میں ان مشرکین کے چھوٹے چھوٹے کام کچھ بھی نہیں۔ يبشرهم ربهم رَبُّهُمْ ۔ اس سے پہلے اعظم درجہ بھی ایک دعوی تھا۔ اس کا ثبوت دیتا ہے کہ انہیں جنت اور ابدی نعمتیں ملیں گی پھر کامیاب ہوں گے اور یہ پانی پلانے پر نازاں خائب و خاسر رہیں گے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه (۱۱۴)