حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 476 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 476

حقائق الفرقان ٤٧٦ سُورَةُ الْكَهْفِ اس واقعہ کے مفصل حالات اس میں ملیں گے ۔ ( تصدیق براہین احمدیہ ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۵۹،۵۸) ایک عیسائی کا سوال۔ (اگر محمد پیغمبر ہوتے تو ) ” یہ نہ کہتے کہ سورج چشمہ دلدل میں چھپتا ہے یا غرق ہوتا ہے حالانکہ سورج زمین سے نو کروڑ حصے بڑا ہے۔ وہ کس طرح دلدل میں چھپ سکتا ہے۔“ جواب میں تحریر فرمایا۔ 66 تمام قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ سورج چشمۂ دلدل میں چھپتا یا غرق ہوتا ہے ۔ پادریوں کو مدت سے یہ دھوکا لگا ہے کہ قرآن میں ایسا لکھا ہے حالانکہ قرآن میں نہیں لکھا۔ بات یہ ہے کہ اس ذوالقرنین کا قصہ جس کا ذکر دانیال نبی کی کتاب ۸ باب ۴ میں ہے۔ قرآن کریم نے ایک جگہ بیان فرمایا ہے اور اس میں کہا ہے جب وہ مید اور فارس کا بادشاہ اپنی فتوحات کرتا ہوا بلا دشام کے مغرب کو پہنچا تو اس خاص زمین کے مغرب میں ایک جگہ سورج دلدل میں ڈوبتا“ ذوالقرنین کو معلوم ہوا غالباً جب ذوالقرنین بلیک سی بحیرہ اسود یا ڈینیوب کے کنارے پہنچا تو اس وقت ذوالقرنین کو اس نظارہ کا موقع ملا ۔ ہم نے مانا کہ سورج زمین سے بہت بڑا ہے۔ لاکن چونکہ ہم سے بہت ہی دور ہے۔ اس واسطے ہم کو چھوٹا سا دکھائی دیتا ہے اور زمین چونکہ گروی الشکل ہے اس واسطے غروب کے وقت ہم کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے فلاں حصہ یا پہاڑ کے فلانے چوٹی کے پیچھے یا ناظر کے افق کے فلاں درخت کے پیچھے ۔ یا اگر ہمارے مغرب میں پانی اور دلدل ہو جیسے ذوالقرنین کو موقع لگا تو ہم کو مغرب کے وقت سورج اس پانی اور دلدل میں غروب ہوتا ہوا معلوم دے گا۔ ایک عیسائی کے تین سوال اور اُن کے جوابات۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۰) کسی خاص ملک کی مشرق اور مغرب پر سورج کا نکلنا اور ڈوبنا بتادینا مقدس کتب عہد عتیق وجدید کا خاص محاورہ ہے جیسے دانیال کی کتاب ۴ باب ۲۲ میں اور ذکر یا ۸ باب ۷ میں لکھا ہے۔ نبوکد تیری سلطنت زمین کی انتہا تک پہنچے اور میں اپنے لوگوں کو سورج کے نکلنے کے ملک اور اس کے غروب ہونے کے ملک سے چھڑا لاؤں گا ۔۔۔ دیکھو ز کریا کی الہامی کتاب میں صاف لکھا ہے۔