حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 474 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 474

حقائق الفرقان ۴۷۴ سُورَةُ الْكَهْفِ فاتبع سببا میں سبب کے تین معنے ہیں۔ (۱) علم (۲)۔ پہاڑ کے رستے (۳)۔مناظرہ۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۱۱ صفحه ۲) إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ ۔ ہم نے زور دیا اس کو خاص زمین میں اور دیا ہم نے اس کو ہر طرح کا سامان اور وہ تابع ہوا ایک سامان کا ۔ الارض کا ترجمہ میں نے خاص زمین کیا ہے۔ جاننے والے تو اس کا ستر جانتے ہیں۔ مگر ہم کھولے دیتے ہیں کہ الف اور لام عربی لڑیچر میں خصوصیت کے معنی بھی دیتا ہے۔ بلکہ عزرا نبی کی ۲ کتاب باب آیت سے جس کا ذکر آگے آتا ہے، اور بھی قرآن کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔ ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ (۵۸) اسکندر کا نام تمام قرآن میں نہیں ۔۔۔ سورہ کہف میں جس بادشاہ کا ذکر ہے اس کی قرآن نے تعریف ہی کی ہے۔ اور رومی سکند را یک بت پرست کافر تھا جو شراب خوری میں ہلاک ہوا۔ قرآن کہیں ٹھہدوں کی تعریف کرتا ہے؟ ۔۔۔ ( و ) کے معنے (صاحب) یا (والا) کے ہیں۔ اور قرنین تثنیہ ہے قرن کا ۔ قرن کے معنے سینگ ۔ قرنین کے معنے دو سینگ ۔ ذوالقرنین کے معنے دو سینگ والا ۔ ذوالقرنین کے معنے سکندر ہر گز نہیں ادنی عربی دان سے یہ معنے پوچھ لو۔ فصل الخطاب المقدمه اهل الكتاب حصہ اول صفحه ۱۶۳ ، ۱۶۴) ۸۶ - ۸۷ - فَاتْبَعَ سَبَبًا - حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا قُلْنَا يُذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَ إِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا - ترجمہ ۔ تو وہ ایک سامان کے پیچھے لگا ۔ یہاں تک کہ جب پہنچا آفتاب کے ڈوبنے کی جگہ تو اس نے آفتاب کو پایا ( یعنی ایسا معلوم ہوا کہ وہ ڈوبتا ہے بحر اسود میں اور پایا اس کے نزدیک ایک قوم کو، ہم نے کہا اے ذوالقرنین ! یا تو تو ان کو عذاب دے یا ان سے نیک سلوک کر (یعنی تجھے اختیار ہے )۔