حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 440 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 440

حقائق الفرقان ایک عیسائی کا اعتراض۔ نہ کرتے“ ۴۴۰ سُورَةُ الْكَهْفِ اگر پیغمبر علیہ السلام سچے ہوتے تو اصحاب کہف کی بابت ان کی تعداد میں غلط بیانی کے جواب میں فرمایا۔ نہ قرآن کریم نے اصحاب کہف کی تعداد بیان فرمائی اور نہ رسول کریم نے ۔ معلوم نہیں ہو سکتا کہ سائل نے غلط بیانی کا اتہام کیونکر لگایا۔ حضرت رسالت مآب نے تعداد کو بتا یا ہی نہیں اور اس کا بیان ہی نہیں کیا۔ تو غلط بیانی کہاں سے آ گئی؟ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ سائل کسی کے دھو کہ میں آ کر یہ سوال کر بیٹھا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں جہاں اصحاب کہف کا قصہ لکھا ہے ۔ وہاں تعداد کے متعلق یہ آیت ہے۔ سَيَقُولُونَ ثَلَثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَيْبِ وَ يَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُلْ رَبِّي اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا يَعْلَمُهُمُ إِلَّا قَلِيلٌ (الكهف: ٢٣)۔ ترجمہ۔ لوگ کہیں گے تین ہیں چوتھا ان کا کتا ۔ اور کہتے ہیں پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے۔ بے نشانہ تیر چلاتے ہیں اور کہتے ہیں سات ہیں اور آٹھواں کتا ہے۔ تو کہہ دے (اے محمد) میرا رب ہی ان کی تعداد جانتا ہے۔ اور ان کو تھوڑے ہی جانتے ہیں ۔ اس آیت شریف سے صاف صاف واضح ہے کہ لوگ ایسا ایسا کہیں گے اور لوگ فلاں فلاں تعداد اصحاب کہف کی بیان کریں گے ۔ لاکن ان لوگوں کا کہنا ” بن نشانہ تیر چلانا ہے“ اعتبار کے قابل نہیں۔ غرض حضرت نبی عرب نے کوئی تعداد اصحاب کہف کی نہیں بتائی۔ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۹)