حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 412 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 412

حقائق الفرقان لد اله سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ ہیں۔ ان معنی کے رو سے روح مخلوق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اس لئے کہ یہ روح النبی ا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا متکلم ۔ جب ان معنے کے لحاظ سے روح خدا کی صفت ٹھہری اور مخلوق نہ ہوئی اس کیلئے کسی مصالح کی ضرورت بھی بجز ذات النبی کے نہ رہی ۔ قرآن کریم سے ان معنی کی شہادت سنو ! وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا ۔ (الشورى: ۵۳) يُنَزِّلُ الْمَلِيلَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ (النحل : ٣) دوم: روح، ملائکہ اور انبیاء کو کہا ہے اور ظاہر ہے کہ ملائکہ اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مختلف اوقات میں مختلف عناصر سے پیدا ہوئے اور مختلف مصالحوں سے بنے ۔ ان معنے کا ثبوت قرآن کریم سے سنتے ۔ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَتِ وَ أَيَّدُ لَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ (البقرة : ۸۸) إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلَى مَرْيَمَ وَ رُوحُ مِنْهُ فَامِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ (النساء: ۱۷۲) سوم: روح جسمانی جس کا نفخ انسانی جسم میں اور دہ اور شرائین کی تجویف بن جانے کے بعد ہوتا ہے جس کا اشارہ فَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِی میں ہے۔ اگر اس کی بابت پوچھتے ہو کہ مٹی کہاں سے آئی؟ تو ہم نہایت جرات سے بلا تذبذب جواب دیتے ہیں۔ مٹی سرب شکتیمان ( قادر مطلق ) ، بااختیار، قادر کی ایجادی طاقت کا نتیجہ اور اثر تھا۔ لے اسی طرح بھیجا ہم نے تیری طرف ہمارے حکم سے ہمارا کلام قرآن مجید ۲ وہی اللہ اتارتا ہے فرشتوں کو کام دے کر آپ ہی جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے ۔ سے اور ہم نے عیسی ابن مریم کو کھلی دلیلیں دیں اور روح پاک سے اس کی تائید کی۔ ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ عیسیٰ ابن مریم اللہ کا رسول اور اس کا مخلوق ہے جو مریم کے پیٹ سے پیدا ہوا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔