حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 410
حقائق الفرقان ۴۱۰ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَ لَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّتِ (المجادله : ۲۳) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوا کہ روح کلام الہی ہی کا نام ہے جس پر عمل کرنے سے موتی اور مردہ بے ایمان زندہ ہوتے ہیں۔ بلکہ قرآن نے انبیاء اور ملائکہ کو بھی روح فرمایا ہے۔ کیونکہ وہ بھی اسی زندگی کے باعث ہیں جسے ایمان کہتے ہیں۔ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلَى مَرْيَمَ وَ رُوحُ مِنْهُ فَأَمِنُوا بِاللَّهِ وَ رُسُلِهِ (النساء : ۱۷۲) وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَتِ وَ أَيَّدُ لَهُ بِرُوحِ القدس (البقرة: ٨٨)۔ ان آیات سے ناظرین کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ روح کی حقیقت کو قرآن نے کیسے بیان کیا ہے۔ یہ محاورہ روح کی نسبت اگر چہ میں نے قرآن سے ثابت کر دیا ہے۔ اور آفتاب کے سامنے کسی ستارہ کی حاجت نہیں مگر مزید تذکرہ کے واسطے کتب سابقہ سے بھی بیان کرتا ہوں ۔ وو پھر جبکہ وہ تسلی دینے والا جسے میں تمہارے لئے باپ کی طرف سے بھیجوں گا یعنی رُوحِ حق جو باپ سے نکلتی آوے تو وہ میرے گواہی دیگا (یوحنا ۱۵ باب ۲۶) ۔ لکن جب وہ یعنی روح حق 66 66 آوے تو وہ تمہیں سچائی کی راہ بتاو یگی (یوحنا ا باب (۱۳) ۔ اس لئے تم سے کہتا ہوں لوگوں کا ہر ا جول ١٦ ا جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان را خرت پر ایمان رکھتے ہیں تو انہیں نہ دیکھے گا کہ وہ ایسے لوگوں کو دوست رکھتے ہوں جو جنگ کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا قبیلہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں لکھ دیا ہے اور انہیں اپنی روح سے قوت دی ہے اور انہیں جنتوں میں داخل کرے گا۔ اس کے سوا نہیں کہ عیسی بن مریم اللہ کا بھیجا ہوا اور اس کا مخلوق ہے جو مریم کی طرف ڈالا گیا اور اس کی روح ہے پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر سے اور ہم نے عیسی بن مریم کو کھلی دلیلیں دیں اور روح پاک سے اس کو قوت دی۔